1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحرین میں شیعہ مظاہرین کا احتجاج

خلیجی ریاست بحرین میں شیعہ مکتبہ ء فکر سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ دو ہزار مظاہرین نے دارالحکومت مناما میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا۔

default

بحرین کی اکثریتی آبادی کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے جن کا الزام ہے کہ سُنی حکمران ان کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہے ہیں۔ گزشتہ روز اس مظاہرے شریک ایک 22 سالہ شخص کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے جس کی نماز جنازہ بدھ کو ادا کی جائے گی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں یہ ہلاکت ہوئی۔ امکان ہے کہ بدھ کو مظاہرین کی تعداد میں کمی آئے گی کیونکہ ایک روزہ چھٹی کے بعد بحرین میں کاروباری ادارے دوبارہ کھل جائیں گے۔ منگل کو پیغمبر اسلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے عام تعطیل تھی۔

NO FLASH Bahrain Proteste 2011

بحرین میں گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت مخالف مظاہرے ہورہے ہیں

بحرین کے اس مظاہرے میں شریک نوجوانوں پر بھی مصر اور تیونس کے غالب اثرات بتائے جارہے ہیں۔ یہ مظاہرین وزیر اعظم شیخ خلیفہ بن سمان الخلیفہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے جو 1971ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے حکومت کر رہے ہیں۔ وہ امیر قطر شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کے چچا ہیں جو بحرین کی بیشتر زمین کے مالک ہیں۔

شاہ حماد نے مظاہرے میں ہونے والی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ مناما سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق مظاہرین نوکریوں کی بہتر مواقع، تعلیم، صحت کے شعبوں میں اصلاحات اور زیادہ جمہوری آزادی کی بھی مانگ کر رہے تھے۔ مظاہرے میں نئے آئین کی تشکیل اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی نعرے لگائے گئے۔

Unruhen in Bahrain König King Hamad bin Isa Al Khalifa

شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ

اپوزیشن میں شیعہ فرقے کی بڑی جماعت وفاق کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کو حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کریں گی۔ وفاق نے حالیہ پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ واضح رہے بحرین کی 1.3 ملین کی آبادی کا محض نصف مقامی شہریوں پر مشتمل ہے بقیہ غیر ملکی کارکن ہیں۔

ملک کی اکثریتی شیعہ آبادی کا الزام ہے کہ سُنی حکمران دیگر ریاستوں کے سُنی باشندوں کو بحرین کی شہریت دے کر آبادی کا تناسب بدلنا چاہتے ہیں۔ تیل کی دولت کے ساتھ ساتھ بحرین کی بین الاقوامی اہمیت کی ایک وجہ یہاں پر امریکی بحری دستے کی موجودگی بھی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM