1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحرین میں ’بلامشروط‘ قومی مصالحتی مکالمت شروع

بحرین نے ہفتے کے روز قومی مصالحتی کانفرنس کا آغاز کیا ہے۔ اس حوالے سے بحرین کا دعویٰ ہے کہ مصالحتی مکالمت کے سلسلے میں کسی طرح کی کوئی بھی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔

default

داراحکومت مناما میں بحرین کی پارلیمان کے اسپیکر خلیفہ الدہرانی نے اس مذاکراتی کانفرنس کے آغاز پر کہا، ’بحرین کے عوام کے لیے یہ ایک بے مثال اور تاریخی موقع ہے تاکہ وہ اس بلامشروط قومی مصالحتی مکالمت کے ذریعے ملک کو درپیش مسائل کا حل مل بیٹھ کر نکالیں۔‘‘

اس کانفرنس کی تجویز بحرین کے بادشاہ حامد بن عیسیٰ الخلیفہ نے دی تھی۔ بحرین میں اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد اس کانفرنس کا انعقاد ملک میں موجود کشیدگی کی صورتحال میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شیعہ اکثریت کے اس ملک کی حکمرانی سنی خاندان کے پاس ہے۔

تیونس میں یاسمین انقلاب کے بعد شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں پھیلنے والی جمہوریت کی حامی تحریک کا اثر بحرین پر بھی پڑا تھا، جہاں اپوزیشن نے فروری میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ بحرین میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Facebook Twitter Aufstand der arabischen Welt

عرب دنیا میں حالیہ انقلاب میں سوشل میڈیا کا اہم کردار رہا ہے

اپوزیشن کے ایک گروپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ اس مصالحتی مکالمت میں بحرین کے عوام کا ’مقبول ترین مطالبہ‘ دہرائیں گے۔

الوفاق نامی اس شیعہ گروپ کے رکن خیل مزروق نے اشرق اوسط نامی اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا، ’ہم ان مصالحتی ڈائیلاگز میں اپنے تمام جائز مطالبات رکھیں گے تاکہ قومی سطح پر ان پر بحث ہو اور مسئلے کا کوئی قابل قبول حل نکلے۔‘

انہوں نے کہا کہ عوام میں مقبول مطالبات میں ایک جمہوری حکومت کے قیام کی خواہش سرفہرست ہے۔ ’’ہمارا مطالبہ ملک میں منتخب حکومت اور منتخب پارلیمان کا ہے۔‘‘

اس سے قبل اس اپوزیشن گروپ نے اسپیکر خلیفہ الدہرانی سے طویل مزاکرے کے بعد مصالحی ڈائیلاگ کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ امریکہ نے بھی الوفاق گروپ کی مصالحی عمل میں شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس