1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحرین میں اپوزیشن کے مرکزی سیکولر گروپ ’وعد‘ پر پابندی

خلیجی ریاست بحرین کی ایک عدالت نے ملکی اپوزیشن کے سب سے بڑے سیکولر گروپ کو قانوناﹰ ممنوع قرار دے دیا ہے۔ بحرین میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی اجازت نہیں ہے اور اب قومی جمہوری ایکشن سوسائٹی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

Proteste gegen die Regierung in Bahrain 3.1.2014 (Reuters)

وعد کی کارکن خواتین اپنی تنظیم اور مرکزی شیعہ اپوزیشن گروپ الوفاق کے زیر حراست رہنماؤں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کرتے ہوئے

نیوز ایجنسی روئٹرز کی جمعرات یکم  جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق بحرین کی ایک عدالت نے بدھ اکتیس مئی کے روز اپنے فیصلے میں ملک کی اس سب سے بڑی لادین اپوزیشن تنظیم کو ممنوع قرار دیتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اس تنظیم پر، جس کا نام نیشنل ڈیموکریٹک ایکشن سوسائٹی ہے اور جو عربی زبان میں مختصراﹰ ’وعد‘ کہلاتی ہے، منامہ حکومت کا الزام تھا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے۔ اس حکومتی الزام کے برعکس انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی ملکی شخصیات اور غیر ملکی گروپوں کا الزام ہے کہ منامہ حکومت کی طرف سے شروع کردہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں عدالت نے وعد کو اس لیے غیر قانونی قرار دے دیا کہ حکومت ملک میں پرامن اختلاف رائے کا اظہار کرنے والی تمام آوازوں کو خاموش کرا دینا چاہتی ہے۔

بحرین: پانچ افراد ہلاک، 286 شیعہ مظاہرین گرفتار

بحرین: مرکزی اپوزیشن گروپ کو تحلیل کرنے کے لیے کارروائی شروع

احتجاج کے باجود بحرین میں تین شیعہ شہریوں کو پھانسی

وعد (Waad) بحرین کی ایک ایسی سیاسی سماجی تنظیم ہے، جو ملک میں انسانی حقوق کے احترام اور سماجی آزادیوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس اپوزیشن گروپ کی طرف سے بدھ کی شام ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا گیا کہ مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے اس تنظیم کے تحلیل کیے جانے کا حکم جاری کرتے ہوئے اس کے جملہ اثاثے ضبط کر لیے جانے کا فیصلہ بھی سنایا ہے۔ وعد کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

Bahrain Ibrahim Sharif in Tubli (picture alliance/AP Photo)

وعد کے رہنما ابراہیم شریف جو کافی عرصہ جیل میں رہے

اس اپوزیشن گروپ کے خلاف عدالت میں مقدمہ بحرین کی وزارت انصاف کی طرف سے اس سال مارچ میں دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ یہ گروپ ’قانون کی حکمرانی کے اصول کا احترام کرنے کے بجائے اس اصول کی شدید خلاف ورزیوں‘ میں ملوث تھا، جس دوران وہ ’دہشت گردی کی حمایت اور تشدد کی تائید‘ کا مرتکب بھی ہوا تھا۔

وعد کے ایک رہنما الموسوی کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے بعد بحرین کی پولیس نے دارالحکومت منامہ میں اس تنظیم کے صدر دفاتر کو جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی۔

اس فیصلے کے بعد برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم بحرین انسٹیٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی نے وعد پر پابندی اور اس کے اثاثے ضبط کر لیے جانے کو اس خلیجی عرب ریاست میں اپوزیشن کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیا، جس کے بعد ’اپوزیشن کی پرامن آوازیں زیر زمین چلے جانے پر مجبور‘ ہو جائیں گی۔

DW.COM