1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحران کے دو سال، جرمنی میں پناہ گزینوں کا انضمام کیسا رہا؟

سن دو ہزار پندرہ میں جرمن چانسلر میرکل نے لاکھوں مہاجرین کے لیے جرمنی کے دروازے کھول کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن یہ تارکین وطن جرمن معاشرے میں ضم ہونے میں کس حد تک کامیاب رہے، اس پر فوئبے کوکے کی رپورٹ پڑھیے۔

سن دو ہزار پندرہ کے آغاز سے اب تک قریب ایک اعشاریہ تین ملین مہاجرین جرمنی میں پناہ حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم کم آبادی والی میکلن برگ ویسٹ پومیرینیا کی ریاست تارکین وطن کے لیے مقبول پناہ گاہ ثابت نہیں ہوئی ہے۔ سن دو ہزار پندرہ میں وہاں انیس ہزار تارکین وطن میں سے تین چوتھائی کو پناہ دی گئی جو انضمام کا متنازعہ قانون آنے سے قبل ہی جرمنی کی دوسری ریاستوں میں منتقل ہو گئے تھے۔

انیس سالہ تسنیم المُردی، جنہیں سن دو ہزار سولہ میں  میکلن برگ ویسٹ پومیرینیا میں پناہ دی گئی تھی، پر بھی اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ کمسن شامی مہاجر لڑکی جلد از جلد اس ریاست سے منتقل ہونا چاہتی ہے لیکن انضمام کے قانون کے تحت اسے یہاں تین سال رہنا ہو گا۔ المُردی کا کہنا ہے،’’یہاں رہنا زندگی کا سب سے برا تجربہ ہے۔ میرے بہت سے دوست مغربی جرمنی میں رہ رہے ہیں اور انہیں کبھی وہاں غیر ملکیوں سے نفرت اور خوف کے واقعات کا سامنا نہیں ہوا۔ مجھے بہت حیرانی ہے کہ یہاں کے لوگوں کا رویہ کتنا غیر دوستانہ ہے۔‘‘

یہ امر قابل توجہ ہے کہ مشرقی جرمنی کی ریاستوں نے مغربی جرمنی کی ریاستوں کے مقابلے میں غیر ملکیوں کے ساتھ غیر دوستانہ رویہ رکھنے میں کافی شہرت حاصل کی ہے۔ جرمنی میں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی ریاست کی سترہ اعشاریہ ایک ملین کی آبادی جو سابق مشرقی جرمنی کی کُل آبادی سے زیادہ ہے اور جس میں ایک لاکھ سے زائد ترک نژاد شہری بھی شامل ہیں،خاص طور پر مہاجرین کی جانب جھکاؤ رکھتی ہے۔

رینے فیورورک میکلن برگ فورپومرن میں تسنیم المردی سمیت مہاجرین کو اُن کے پناہ کے حقوق کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں۔ اڑتیس سالہ فیورورک کے مطابق،’’ لوگ سمجھتے ہیں کہ مشرقی جرمنی نازیوں سے بھرا ہوا ہے۔ سابقہ مغربی جرمنی میں مہاجرت کی تاریخ زیادہ پرانی ہے۔‘‘

فیورورک نے مزید کہا کہ کچھ شامی مہاجرین یہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ رینے فیورورک کے بقول،’’ اگر وہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر بوخُم جائیں تو وہاں سب کچھ عربی میں کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں آپ کو جرمن سیکھنا لازمی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ آپ بہتر طور پر آباد ہو سکتے ہیں اور یہاں مقامی لوگوں سے زیادہ روابط بھی استوار کر سکتے ہیں۔‘‘

حلب کی شہری تسنیم المُردی بھی مشرقی جرمنی کی اس ریاست میں ضم ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

المردی کے مطابق،’’ بہترین تو یہی ہے کہ لوگ مجھ سے بلکل بات چیت نہ کریں۔ کیونکہ وہ جب بھی مجھ سے بات کرتے ہیں برا بھلا ہی کہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ میں حجاب کرتی ہوں۔ میں یہاں سے نکلنا چاہتی ہوں لیکن نہیں نکل سکتی۔‘‘

بحران کے بعد سکون کا احساس برلن کے نوئے کولن ڈسٹرکٹ میں ایک گروپ آلپ کی جانب سے چلائے جانے والے ایک مرکز کے مہاجرین میں پایا جاتا ہے۔ اس مرکز کے باسیوں میں بغیر سرپرست کے جرمنی آنے والے سولہ سے بیس برس کی عمر کے لڑکے ہیں۔ آلپ کا مقصد ان نوجوان لڑکوں کو جرمن معاشرے میں آزادانہ طور پر ضم ہونے کی کوششوں میں مدد دینا ہے۔

جرمن سماجی کارکن یونس کی رائے میں تارکین وطن سے متعلق عوامی بحث در اصل جرمن سوسائٹی میں ان کے انضمام میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ یونس کے بقول،’’ خواہ لوگ یہاں یہ بات نہ سننا چاہیں لیکن جرمنی ہمیشہ سے تارکین وطن کا ملک رہا ہے۔ باہر سے آنے والی ثقافتیں ہمیشہ خوبصورتی لاتی ہیں اور میرے خیال میں جرمنی متعدد ثقافتوں کا مجموعہ ہے۔‘‘

DW.COM