1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحران کے حل کے لئے قومی کانفرنس بلانے کی تجویز

پاکستان میں سنگین بحران کے حل کیلئے قومی کانفرنس کے انعقاد کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔

default

نواز شریف نے وزیر اعظم کو فوری طور پر قومی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے

تمام سیاسی قوتوں اور ریاست کے اہم اداروں سے وابستہ شخصیات سر جوڑ کر بیٹھنے والی ہیں تا کہ ملکی تاریخ کے بد ترین بحران کے خاتمے کی کوئی تدبیر نکالی جا سکے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایک خط کے ذریعے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے رابطہ کر کے انہیں فوری طور پر قومی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔

وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق قومی کانفرنس کے انعقاد کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے تاہم اس کی جگہ اور تاریخ کے تعین کے لئے حکومتی حلقے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جمعے کے روز لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری بحران کو کوئی ایک پارٹی حل نہیں کر سکتی۔ نواز شریف کے مطابق مجوزہ قومی کانفرنس میں فاٹا ، سوات ، بلوچستان ،دہشت گردی کے خلاف جنگ ،مہنگائی اور لوڈشیڈنگ سمیت ملک کو درپیش تمام مسائل کے حل کےلئے متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ اگر یہ مسائل حل نہ کئے جا سکے تو ملک اور جمہوریت کو سنگین خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔

Yousaf Raza Gilani Pakistan Wahlen

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کےقریبی زرائع کے مطابق قومی کانفرنس کی تیاری مکمل ہو چکی ہے

اس موقع پر نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں آمروں نے بندوق کے زور پر ملک پر قبضہ کیا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی طاقت کے اسی قانون کا تسلسل ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو پھر بندوق کے زور پر من مانی کرنے کا یہ سلسلہ ملک کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ سکتا ہے ۔

نواز شریف کی طرف سے یہ بیان ان کی غیر ملکی سفارت کاروں سے ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے ۔نواز شریف کے مخالف حلقوں کی طرف سے ان پر یہ تنقید کی جا رہی ہےکہ وہ ججز کی بحالی کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر سے پھر گئے ہیں اور وہ کسی مبینہ ڈیل کی وجہ سے امریکی موقف کی تائید میں موجودہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے پرانے موقف سے انحراف کرتے جا رہے ہیں۔