1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’بحران سے متاثرہ ملکوں کے ليے سات سو ملين يورو کی مالی امداد‘

مشرقی يورپ ميں بلقان خطے کے ممالک کی جانب سے حاليہ سرحدی پابنديوں کے نتيجے ميں يونان کی مشکلات ميں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ يورپی يونين کی جانب سے متاثرہ ملکوں کے ليے سات سو ملين يورو کی مالی امداد تجويز کی گئی ہے۔

يورپی يونين کی جانب سے يونان اور بحران سے متاثرہ ديگر ملکوں کے ليے سات سو ملين يورو کی مالی امداد کا ايک پيکج تجويز کيا گيا ہے۔ قبل ازيں يورپی يونين کی انسانی بنيادوں پر امداد کے کمشنر کرسٹس اسٹيليانيڈس نے ٹوئٹر پر اپنے ايک پيغام کے ذريعے مطلع کيا ہے کہ آج بدھ کے روز وہ يونان کے ليے ہنگامی بنيادوں پر مالی امداد کا منصوبہ تجويز کر رہے ہيں۔ انہوں نے يہ تصديق کی کہ يونان کی جانب مہاجرين کی ديکھ بھال کے ليے امداد کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ کرسٹس اسٹيليانيڈس نے بتايا کہ وہ رکن رياستوں سے يہ مانگ پوری کرنے کو کہيں گے۔ خبر رساں ادارے اے ايف پی کے مطابق ہنگامی امداد کے ليے رقوم کا انتظام يورپی يونين کے ان فنڈز سے کيا جائے گا جو بلاک سے باہر کی کسی ہنگامی ضرورت کو پورا کرنے کے ليے بروئے کار لائے جاتے ہيں۔

يونان کی جانب سے 480 ملين يورو کا مطالبہ کيا گيا ہے، جس کی مدد سے قريب ايک لاکھ پناہ گزينوں کے ليے رہائش کا بندوبست کيا جائے گا۔ ايتھنز حکام کے مطابق تارکين وطن کی ديکھ بھال کے ليے آٹھ ہزار سے زائد اہلکاروں کی ضرورت پڑے گی، جن ميں پوليس والے، آگ بجھانے کا عملہ، طبی ماہرين اور مترجم وغيرہ شامل ہوں گے۔

يونان کی جانب سے 480 ملين يورو کا مطالبہ کيا گيا ہے

يونان کی جانب سے 480 ملين يورو کا مطالبہ کيا گيا ہے

يہ امر اہم ہے کہ چند بلقان ممالک کی جانب سے اپنے ہاں سے گزرنے والے مہاجرين کی يوميہ حد مقرر کر ديے جانے کے بعد سے يونان اور مقدونيہ کی سرحد پر قريب سات ہزار افراد پھنس گئے ہيں اور ايتھنز حکام نے متنبہ کيا ہے کہ آنے والے دنوں ميں يہ تعداد ستر ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ اس دوران تصادم، کھانے پينے کی اشياء پر لڑائی جھگڑوں اور ديگر مسائل کی رپورٹيں سامنے آ رہی ہيں اور صورتحال کافی کشيدہ ہے۔

اس مقام پر موجود فرح نامی ايک شامی پناہ گزين خاتون نے بتایا کہ وہ کھانے کے ليے چھ دن سے انتظار کر رہی ہے۔ اس نے بتايا، ’’يہاں کھانے پينے کی اشياء ناکافی ہيں۔ ہر کوئی ہم سے غلط بيانی کر رہا ہے اور ہم کافی پريشان ہيں۔‘‘

صورتحال کے پيش نظر يوميہ حد مقرر کرنے والے ممالک کو کافی تنقيد کا سامنا ہے۔ يورپی يونين نے مقدونيہ کی جانب سے مہاجرين کے خلاف آنسو گيس استعمال کرنے کے عمل کی بھی شديد الفاظ ميں مذمت کی۔ معاملات بہتر بنانے کی غرض سے يورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک منگل سے آسٹريا اور پھر بلقان رياستوں کا دورہ کر رہے ہيں جہاں وہ کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کريں گے۔

ملتے جلتے مندرجات