بحرانوں کے سال ميں انگيلا ميرکل کی قيادت نماياں | مہاجرین کا بحران | DW | 28.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحرانوں کے سال ميں انگيلا ميرکل کی قيادت نماياں

براعظم يورپ کے ليے سن 2015 بحرانوں کا سال ثابت ہوا۔ کئی تنازعات اور مسائل کے بيچ جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی قيادت نماياں رہی اور انہوں نے مسائل سے نمٹنے ميں کليدی کردار ادا کيا۔

معاملہ چاہے روس کے ساتھ سفارت کاری کا ہو يا قرض کی شرائط پر يونانی حکومت کے ساتھ بحث و مباحثے کا يا بات کی جائے دوسری عالمی جنگ کے بعد يورپ کو درپيش پناہ گزينوں کے سب سے بڑے بحران سے نمٹنے کی، جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی قيادت ہر مرتبہ اہم ثابت ہوئی۔ ايک ايسے وقت کہ جب يورپ بے يقينی اور تقسيم کا شکار تھا، جرمن رہنما نے انسانی بنيادوں اور حقيقت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کيا۔

اسی سال جب ميرکل نے شامی مہاجرين کے ليے اپنی سرحديں کھول دينے کا اعلان کيا، تو اگلے چند مہينوں ميں ان کا يہ فيصلہ نہ صرف داخلی سطح پر ان کی مقبوليت ميں کمی کا سبب بنا بلکہ اٹھائيس رکنی يورپی يونين ميں بھی وہ متعدد مقامات پر تنہا ہی کھڑی رہ گئيں۔

چانسلر ميرکل اب ايک دہائی سے يورپ کی سب سے بڑی معيشت کے حامل ملک جرمنی کی باگ ڈور سنبھال رہی ہيں۔ اس عرصے ميں عالمی و يورپی سطح پر جرمنی کے قد و قامت ميں اضافے سے بہت سے علاقائی ممالک الجھن کا شکار بھی ہيں۔ يورو زون کے قرضوں ميں ڈوبے ارکان کو جب ميرکل نے اخراجات ميں کٹوتی کا کہا، تو کئی ممالک ميں ان پر کڑی تنقيد کی گئی۔ پھر شايد اس سال کی سب سے اہم پيش رفت اس وقت ہوئی جب ميرکل نے ستمبر ميں بوداپسٹ سے پيدل چل کر آنے والے پناہ گزينوں کے ليے اپنے دورزے کھول ديے۔ وہ ملک جو دوسری عالمی جنگ ميں ريل کے ڈبے بھر بھر کر لوگوں کو حراستی مراکز بھيج رہا تھا، آج پناہ گزينوں کے ويسے ہی بھرے ڈبوں کا استقبال کر رہا ہے۔ دنيا بھر ميں ٹيلی وژن پر دکھائے جانے والے مناظر نے کئی آنکھيں نم کر ديں اور يوں دل بھی جيتے۔

انگيلا ميرکل پناہ گزينوں ميں بے حد پسند کی جاتی ہيں

انگيلا ميرکل پناہ گزينوں ميں بے حد پسند کی جاتی ہيں

ميرکل کا معروف نعرہ، ’ہم يہ کر دکھائيں گے‘ بہت سوں کے ليے اعتماد کا باعث بنا اور انہيں ’ماما ميرکل‘ کے خطاب سے نوازا گيا۔ پھر يکساں طور پر ٹائم ميگزين، فنانشل ٹائمز اور فرانسيسی خبر رساں ادارے اے ايف پی نے ’يورپ کی ملکہ‘ کو سال رواں کی سب سے اہم اور با اثر شخصيت قرار ديا۔

دوسری جانب بہت سے جرمن باشندوں کا خيال ہے کہ جس پر انہوں نے استحکام کے ليے انحصار کيا، وہ ملک کو افراتفری کی جانب دھکيل رہی ہيں۔ رائے عامہ کے جائزے اکثريتی طور پر مسلمان پناہ گزينوں کی آمد کے سبب جرمن عوام ميں بڑھتے ہوئے خوف کی نشاندہی کرتے ہيں۔ اسی دوران دائيں بازو کی قوتيں زور پکڑ رہی ہيں اور نسل پرست حملوں ميں بھی اضافہ ريکارڈ کيا گيا ہے۔ برلن کی فری يونيورسٹی سے وابستہ اوسکار نيڈرمائر کے مطابق، ’’جرمنی يقيناً منقسم ہے۔‘‘ ان کے بقول اگرچہ عوام مجموعی طور پر ميرکل اور ان کے کام سے مطمئن ہيں تاہم مہاجرين کے حوالے سے اکثريت کا يہی خيال ہے کہ وہ غلط پاليسی پر چل رہی ہيں۔