1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحرانوں سے نمٹنے کی ماہر جرمن چانسلر مشکل میں

پناہ گزينوں کے بحران کے تناظر ميں جرمن چانسلر انگيلا ميرکل دباؤ کا شکار ہيں اور ان کی مقبوليت ميں بھی کمی واقع ہوئی ہے تاہم ماہرين کا کہنا ہے کہ يہ صورتحال ميرکل پر عوامی اعتماد ميں کمی کی اظہار نہيں ہے۔

پناہ گزينوں کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے جرمن چانسلر انگيلا ميرکل اکثر کہتی آئی ہيں، ’’ہم اس (بحران) کو سنبھال لیں گے۔‘‘ تاہم ان مہاجرين کی آمد کو محدود کرنے، يورپی يونين کے ديگر ممالک کو ان کا بوجھ بانٹنے پر رضامند کرنے ميں تاخير اور اپنی ہی اتحادی جماعت کی طرف سے تنقيد کے سبب جرمنی ميں داخلی سطح پر اب ميرکل کے اس جملے پر عوام کا اعتماد کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

رواں سال اکتوبر کے اواخر تک قريب 758,000 پناہ گزين جرمنی ميں سياسی پناہ کے ليے اندراج کرا چکے ہيں جبکہ مہاجرين کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ يوميہ بنيادوں پر اب بھی چھ تا دس ہزار تارکين وطن جرمنی پہنچ رہے ہيں۔ اگرچہ چانسلر ميرکل متعدد مرتبہ يہ يقين دہانی تو کراتی آئی ہيں کہ ’غير مستحق‘ قرار ديے جانے والے پناہ گزينوں کو فوری طور پر جرمنی سے واپس جانا ہو گا تاہم انہوں نے کافی دباؤ کے باوجود واضح انداز ميں تاحال يہ تسليم نہيں کيا کہ جرمنی ’ايک حد تک ہی‘ پناہ گزينوں کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر وہ نیا وعدہ کر کے کسی ايسی صورتحال سے بچنا چاہ رہی ہيں جس ميں وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکيں۔

گزشتہ دنوں مخلوط حکومت ميں شامل اتحادی جماعتيں شامی مہاجرين کے سياسی پناہ کے حقوق ميں تراميم کے حوالے سے بحث و مباحثے کا حصہ بنی رہيں۔ وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے اس حوالے سے حکومتی پروگرام پر سے پردہ پہلے ہی ہٹا ديا، جس کے بعد پہلے تو پروگرام کو زيادہ اہميت نہ دی گئی ليکن پھر متعدد اہم قدامت پسند سياست دانوں نے اس کی حمايت ميں بيان ديے۔

CSU کے ہورسٹ ذیہوفر،CDU کی انگيلا ميرکل اور سوشل ڈيموکريٹس کے زيگمار گابريل

CSU کے ہورسٹ ذیہوفر،CDU کی انگيلا ميرکل اور سوشل ڈيموکريٹس کے زيگمار گابريل

موجودہ دور جرمن چانسلر کے ليے کافی مشکل ہے۔ مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے ليے ميرکل آہستہ آہستہ اپنی مثبت حکمت عملی کو ترک کرتے ہوئے سخت تر پاليسيوں کی طرف بڑھ رہی ہيں۔ انہيں دائيں بازو اور بائيں بازو پر مشتمل اپنی مخلوط حکومت کے مفادات کا بھی خيال رکھنا ہو گا۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران داخلی سطح پر مصالحت اور بين الاقوامی سطح پر استقامت پر مبنی پاليسيوں کے سبب انگيلا ميرکل يورپ کی طاقتور ترين سياستدان کے طور پر ابھری ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ ترکی ميں آئندہ اتوار اور پير کے روز ہونے والے جی ٹوئنٹی کے اجلاس ميں جرمن چانسلر کليدی اہميت کی حامل ہيں۔ پچھلی قريب ايک دہائی کے دوران ميرکل کی پيچيدہ بحرانوں سے نمٹنے ميں صلاحيت ہی جرمن شہريوں کے ليے اس اعتماد کا باعث بنی ہے کہ ’صورتحال چانسلر کے قابو ميں ہے‘۔

فورسا پولنگ ايجنسی کے سربراہ مانفرڈ گوئلنر کے مطابق مہاجرين کے معاملے پر چانسلر ميرکل اپنا موقف تبديل نہيں کر سکتيں تاہم وہ آہستہ آہستہ اقدامات کرتے ہوئے سختياں متعارف کرا سکتی ہيں، جيسا کہ وہ اس وقت کر بھی رہی ہيں۔ گوئلنر نے مزيد واضح کيا کہ ايسا نہيں ہے کہ ميرکل پر سے جرمن شہريوں کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ ان کا البتہ يہ بھی کہنا ہے کہ بحرانوں سے نمٹنے کے معاملے ميں ايک قابل بھروسہ ليڈر کے طور پر اگر ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے تو اس کے طويل المدتی بنيادوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہيں۔

ملتے جلتے مندرجات