1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحالیِ عدلیہ کے لیے دھرنا، اسلام آباد میں کرفیو کا سماں

حکومت نے لانگ مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کے لئے ملکی تاریخ کےسخت ترین حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔

default

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسلام آباد کو سیل کردیا ہے

لانگ مارچ میں شریک جماعت مسلم لیگ نواز کا گڑھ مانے جانے والے شہر راولپنڈی کو بحالیِ عدلیہ کے دھرنے کی کامیابی کے لئے فیصلہ کن کردار کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

Pakistanische Anwälte protestieren in Lahore gegen die Ermordung Benazir Bhutto Pakistan

وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے مختلف جلوس کل اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کریں گے

وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں کو بھارتی کنٹینر رکھ کر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ وزارت داخلہ کی ہدایت پر دیگر شہروں سے بھی پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری طلب کر کے مختلف شاہراہوں ، چوراہوں اور اہم سرکاری تنصیبات پر تعینات کر دی گئی ہے ۔اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کی طرف سے مختلف علاقوں میں روپوش وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لئے چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ۔اسی لئے یہاں پر اٹھارہ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے تا کہ لانگ مارچ کی ممکنہ شدت پر قابو پایا جا سکے۔

ادھر مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف ، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت کئی اہم سیاسی رہنما اور ہزاروں کارکن اسلام آباد میں مختلف مقامات پر روپوش ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کل سوموار کے روز دھرنے کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

Pakistan Oberster Richter Iftikhar Mohammed Chaudhry abgesetzt

وکلاء رہنماؤں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمّد چوہدری کی بحالی اور عدلیہ کو دو نومبر کی پوزیشن پر بحال کرنے سے کم پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا ہے

عمران خان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں تو موجودہ صورتحال فوراً ختم ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: میاں نواز شریف ، قاضی حسین احمد ، وکلاء یا ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صدر کرسی سے ہٹ جائیں یا ہم آپ کی جگہ آنا چاہتے ہیں، ہم نے صرف کہا ہے کہ پاکستان کے آئینی چیف جسٹس چوہدری افتخار کو بحال کریں، چیف جسٹس کو کل بحال کر دیں یہ سارا کچھ ختم ہو جائے گا۔

دوسری طرف دھرنے سے چند گھنٹوں پبل ایوان صدر میں اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے اتوار کی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مفاہمت چاہتی ہے اور اس کے لئے اب بھی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن بقول ان کے اس اقدام کی کامیابی کے لئے میاں برادران کو بھی مثبت رویہ اپنانا ہوگا۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں سخت سیکورٹی کے سبب پبلک ٹرانسپورٹ اور مارکیٹوں کی بندش نے عام شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے اور ایسے میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ یہ صورتحال کب تک قائم رہے گی۔