1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بحالیِ عدلیہ تحریک: نجی ٹی وی چینل کی بندش کے خلاف مظاہرہ

پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو کی بندش کے خلاف کراچی میں ایک احتجاجی ریلی منعقد ہوئی جس میں جیو ٹی وی کے ملازمین، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوںکے رہنمائوں اور کارکنوں نے میں شرکت کی۔

default

وکلاء کے ساتھ ساتھ بحالیِ عدلیہ کی تحریک میں پاکستانی زرائع ابلاغ بھی پیش پیش رہے ہیں

شرکاء ئے آزاد عدلیہ اور آزادئ صحافت کے حق میں نعرے لگائےـ

حکومتی اقدامات کے خلاف ہونے والے مارچ کے شرکاء وزیراعلیٰ ہائوس تک گئے جہاں جیو ٹی وی کے سربراہ عمران اسلم نے خطاب کرتے ہوئے پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور میڈیا کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیاـ

Polizisten verhaften einen Anwalt in Lahore, Pakistan

مبصرین کے مطابق وکلاء تحریک کی آزادانہ رپورٹنگ کرنے پر پاکستانی زرائع ابلاغ پر قدغن لگائی جا رہی ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ جیو ٹی وی کی نشریات بند نہیں کی گئی بلکہ صرف کیبل آپریٹرز نے چینلوں کے نمبروں کی ترتیب تبدیل کی ہے۔ ان حلقوںکا یہ بھی کہنا ہے کہ جیو ٹی وی کی انتظامیہ غلط بیانی سے کام لے کر سستی شہرت حاصل کرناچاہتی ہےـ

کراچی یونین آف جرنلسٹ اور کراچی پریس کلب کے ممبران نے جیو ٹی وی کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کی مرکزی تنظیم پاکستان فیڈریل یونین آف جرنلسٹ کی جانب سے انہیں مظاہرے میں شرکت کے حوالے سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ پریس کلب میں موجود بیشتر صحافیوںکا کہنا تھا کہ جیو ٹی وی اور جنگ گروپ دیگر چینلز اور اخبارات کو درپیش مشکلات اور مسائل میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے اب جنگ گروپ سے تعاون کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ازسرنو غور کیا جا رہا ہےـ

Sherry Rehmann, pakistanische Informationsministerin

شیری رحمان وزیرِ اطلاعات کے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی اورسپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر ملک کو انتظامیہ نے کراچی سے اسلام آباد سے جاتے ہوئے جہاز میں بیٹھنے کے بعد آف لوڈ کر دیا، جہاز سے اتارے جانے کے بعد ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر جسٹس رشید اے رضوی نے کہا کہ حکومت ایک جانب مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری جانب سینکڑوں وکلاء ، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی جماعتوں کے حامیوں کو گرفتار کر کے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں، ایسے میں مفاہمت کی بات حکومت کی منافقت ہے۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ دھرنے کا عمل مسلسل جاری رہے گا، جب بھی رکاوٹیں اور پابندیاں ہٹیں وہ اور ان کے ساتھی دھرنے کے لئے اسلام آباد جائیں گےـ

ایوان صدر کی جانب سے مفاہمانہ رویہ سامنے آنے کے باوجود مسلم لیگ ن اور وکلاء تنظیموںنے دھرنے کے آغاز کے لئے اپنی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بظاہر حکومت لانگ مارچ کے حوالے سے دبائو کا شکار نظر آتی ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایوان صدر کی جانب سے مفاہمت اور دوبارہ مذاکرات کی پیشکش دراصل امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور فوج کے سربراہ جرنل اشفاق پرویز کیانی کی کوششوں اور دبائو کا نتیجہ ہے جو وہ کئی روز سے کر رہے تھے۔