1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بجٹ کا بحران: اوباما پریشان

ریپبلکنز اوباما کی مجوزہ بچتی پالیسیوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر دو اگست تک کانگریس نے قرضوں کی حد میں اضافے کا فیصلہ نہ کیا تو سرکاری ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل سکیں گی۔

default

اوباما کا بجٹ سے متعلق بحث کے بارے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب

امریکہ میں اس وقت ایک اور بس ایک ہی سیاسی موضوع زور و شور سے زیر بحث ہے۔ یعنی امریکی قومی قرضے کی حد کے تعین کی کوشش۔ اس ضمن میں وائٹ ہاؤس میں قرضوں کی حد کو بڑھانے کے بارے میں مذاکرات کا عمل جاری ہے، جو اس وقت 14,3 ٹرلین ڈالرہے۔ تاہم قومی بجٹ میں تسلسل کے لیے یہ رقم کافی نہیں ہے۔ قرضوں کی حد میں اضافے کے فیصلے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے۔ حالانکہ گزشتہ دس برسوں کے دوران اس معاملے پر کانگریس میں کسی بڑے اختلاف اور رکاوٹ کے بغیر فیصلے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار ریپبلکنز، جو کانگریس میں اکثریت میں ہیں، کی طرف سے اوباما کی ان پالیسیوں کی سخت مخالفت سامنے آ رہی ہے۔ یہ معاملہ ہے بنیادی سیاسی اصولوں کا اور بہت سی چیزیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

Barack Obama Pressekonferenz Budgetverhandlungen USA Juli 2011

کانگریس میں ریپبلکنز کی طرف سے اوباما کے مجوزہ بچتی پروگرام کی سخت مخالفت

درحقیقت امریکہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اوراُن کی ادائیگی کے قابل نہیں ہے۔ 16 مئی سے امریکی وزارت مالیات اپنے تمام تر فرائض انجام نہیں دے پا رہی اور اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے قرضوں کی قانونی حد یعنی 14,3ٹرلین ڈالر سے زیادہ قرضے لے چکی ہے۔ اوباما حکومت پر اس وقت دباؤ بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں پانچ روز تک حکومتی مذاکرات جاری رہے جس کے بعد گزشتہ جمعے کو وزارت مالیات نے یہ اعلان کیا کہ دواگست تک چند حکومتی اخراجات اور سرمایہ کاری میں کمی لائی جائے گی تاکہ حکومت کو قومی قرضوں کی نا دہندگی کے مسائل سے کسی حد تک بچایا جا سکے۔ تاہم اگر دو اگست تک کانگریس نے قرضوں کی حد میں اضافے کا فیصلہ نہ کیا تو بہت سے سرکاری اداروں کے پروگراموں پر آنے والے اخراجات اور اُن کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہوگی۔ حالات کی سنگینی کے سبب گزشتہ جمعے ہی کو صدر اوباما نے کہہ دیا تھا،’ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے‘۔

مسئلہ محض قرضے کی حد بڑھانے کا نہیں ہے بلکہ مستقبل کے بجٹ کے تعین کا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما بچتی پروگرام کے لیے سخت ترین اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے، خاص طور سے اُن لوگوں سے زیادہ ٹیکس لیا جائے جن کی آمدنی زیادہ ہے۔

NO FLASH Symbolbild USA Schuldenkrise Haushalt Rating

امریکہ دیوالیے کے دہانے پر کھڑا ہے

ریپبلکنز اوباما کی اس مجوزہ پالیسی سے نہ صرف اختلاف رکھتے ہیں بلکہ اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اوباما انتظامیہ اپنے حکومتی اخراجات میں کمی لائے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کی طرف سے ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس موضوع کو وہ اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں کسی قسم کی مصالحت کی صورت نظر نہیں آ رہی ۔

ریپبلکنز کے کٹر قدامت پسند دھڑے Tea Party سےتعلق رکھنے والی اور صدارتی انتخاب کی ایک ممکنہ امید وار میشیل باخ مین کے بقول ’ ہم قرضے کی حد میں اضافے کے خلاف ہیں۔ امریکی عوام کی رائے یہی ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے‘۔

دریں اثناء ماہرین اقتصادیات نے انتباہ کیا ہے کہ واشنگٹن حکومت کی طرف سے قومی قرضوں کی عدم ادائیگی کے امریکی معیشت سمیت عالمی اقتصادی منڈیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس