1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بجلی کو ذخیرہ کرنے کا منصوبہ

توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار ایک مسئلہ بھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان طریقوں سے حاصل ہونے والی بجلی کو محفوظ یا ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا، جو انتہائی ضروری ہے۔

default

قابل تجدید توانائی کے دو اہم ذرائع ہوا اور سورج کی روشنی ہیں۔ ہوا کبھی آہستہ چلتی ہے اور کبھی بہت تیز اور کبھی با لکل ہی نہیں۔ اسی طرح سورج بھی یورپی ممالک میں کبھی نکلتا ہے اور کبھی مہینہ بھر بادل ہی چھائے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ بجلی کو ذخیرہ کرنے کے طریقے بھی تلاش کیے جائیں۔ بجلی کو ذخیرہ کرنے کا ایک پائلٹ پروجیکٹ جرمنی میں بھی جاری ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے کنٹینر سائز کا ایک ایسا پلانٹ تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے توانائی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ چھ میٹر لمبے اور تین میٹر چوڑے اس پلانٹ کو سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی سے چلایا جاتا ہے۔ یہ پلانٹ جرمن صوبے باڈن ورٹیمبرگ کے ایک تحقیقی مرکز میں تیار کیا گیا ہے۔

NO FLASH Windenergie, erneuerbare Energien, Erderwärmung

قابل تجدید توانائی کے دو اہم ذرائع ہوا اور سورج کی روشنی ہیں

اس منصوبے سے وابستہ انجینئر اُلرش صوبر بیولر کا کہنا ہے،’’سب سے پہلے ہم اس پلانٹ میں سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی کی مدد سے ہائیڈروجن پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ہمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہم بائیو گیس پلانٹ سے حاصل کرتے ہیں۔ ان دونوں گیسوں کو ملا کر ہم ایک تیسری چیز میتھین تیار کرتے ہیں۔ میتھین کو محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ اس طرح ہم قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی ذخیرہ کرتے ہیں۔‘‘

قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کو میتھین میں تبدیل کرنے کے عمل میں ایک تہائی توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔ میتھین قدرتی گیس کا بنیادی جزو ہوتی ہے۔ اس گیس کو بجلی پیدا کرنے کے لیے قدرتی گیس کی طرح جلایا جا سکتا ہے۔ میتھین کوئلے کی نسبت زیادہ ماحول دوست ہوتی ہے۔ کوئلے کی نسبت میتھین سے بجلی پیدا کرنے میں بہت کم زہریلی گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہیں۔

Solar Millennium AG Solarstrom Kalifornien

قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کو میتھین میں تبدیل کرنے کے عمل میں ایک تہائی توانائی ضائع ہو جاتی ہے

تاہم اس طریقے سے حاصل ہونے والی میتھین کی مقدار بہت کم ہے۔ قابل تجدید توانائیوں کے انسٹیٹیوٹ ZSW کے سربراہ مائیکل شپیخٹ کہتے ہیں کہ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی خواہش ہے کہ دو سال کے دوران چھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ تیار کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم ایسے ہی پلانٹس ایک بڑی تعداد میں لگانا چاہتے ہیں اور اس جگہ لگانا چاہتے ہیں، جہاں بڑے گرڈ اسٹیشن موجود ہوں تاکہ بجلی کی ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔ بڑے اسٹیشنوں کے ساتھ ہی قدرتی گیس کو ذخیرہ کر لیا جائے گا تاکہ ضرورت کے مطابق اسے جلا کر بجلی پیدا کی جا سکے۔‘‘

اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو یقیناﹰ یہ قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہو گی۔ بجلی پیدا کرنے کے چھ میگا واٹ کے پلانٹ کا آغاز سن 2013 میں کیا جائے گا۔ ان دو برسوں کے دوران قابل تجدید توانائی کو میتھین میں تبدیل کرنے کے نئے طریقوں پر بھی تحقیق کی جائے گی۔ اس منصوبے میں شامل سرمایہ کار اور سائنسدان رواں برس دو مزید تجرباتی پلانٹ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM