1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بجلی: پیسہ بچانے کی نئی ٹیکنالوجی

سوچئے آپ رات کا کھانا کھانے کے بعد کہیں باہر نکلے ہوں، آپ نے ڈش واشر کو ریڈیو ایکٹیویٹڈ ٹیکنالوجی سے منسلک کر رکھا ہو اور وہ برتنوں کی صفائی کے لئے اس ڈش واشر کو احکامات اُس وقت دے، جب بجلی کے نرخ سب سے کم ہوں۔

default

عمومی طور پر کچھ مخصوص اوقات میں جب بجلی کی کھپت انہتائی زیادہ ہوتی ہے، یعنی صارفین کی ایک بڑی تعداد ایک ساتھ بجلی سے استفادہ حاصل کر رہی ہوتی ہے، تو اس وقت گرڈ سٹیشنوں پر نہ صرف بوجھ زیادہ ہوتا ہے بلکہ ایسے اوقات میں بجلی کے نرخ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم کینیڈا کے سائنسدانوں نے ایک ایسی تکنیک روشناس کرائی ہے، جس کی مدد سے برقی مصنوعات کو سستی بجلی کے اوقات میں آن یا آف کیا جا سکتا ہے۔ کینیڈا کے عوامی نشریاتی ادارے نے تو اس ٹیکنالوجی کا باقاعدہ استعمال بھی شروع کر رکھا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایف ایم فریکوئنسیاں ارسال کی جاتی ہیں، جو گھریلو استعمال کی برقی مصنوعات کو کام شروع کرنے کا حکم دیتی ہیں۔

Flash-Galerie Küchen - Passagen Köln

گو کہ ابھی اس ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے تاہم ماہرین کے مطابق ایف ایم ریڈیو لہروں کے ذریعے برقی مصنوعات کو خودکار طریقے سے دور بیٹھ کر بھی احکامات دئے جا سکتے ہیں۔ مثلا آپ کھانا کھانے کے بعد سارے برتن ڈش واشر میں ڈالیں اور چین سے سو جائیں۔ جب رات گئے قریبی گرڈ سٹیشن پر دباؤ کم ہو گا تو آپ کا ڈش واشر خود بخود کام شروع کر دے گا، بہرحال آپ کو صبح سویرے تمام برتن دھلے ہوئے ہی ملیں گے۔ اس طرح نہ صرف بجلی کے اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے بلکہ بجلی کی بچت کےساتھ ساتھ گرڈ سٹیشنوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ٹورنٹو کی ایک کمپنی ای ریڈیو ، قومی نشریاتی ادارے ریڈیو کینیڈا اور اسی ادارے کے ایک فرانسیسی حصے سی بی سی ریڈیو نے حال ہی میں مشترکہ طور پر اس انقلابی ایجاد اور ٹیکنالوجی سے مستقبل قریب میں باقاعدہ استفادےکا اعلان کیا ہے۔ اس نظام کے تحت بجلی کی زیادہ کھپت والے اوقات میں غیر ضروری برقی آلات کو بند کیا جا سکے گا۔

Flash-Galerie Küchen - Passagen Köln

اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے والی کمنی ای ریڈیو کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو جیکسن وانگ کا کہنا ہے کہ جب کسی گرڈ اسٹیشن پر اس کی استطاعت سے زائد بوجھ ڈالا جاتا ہے تو یقینی نتیجہ پریشانی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے:’’یہ بالکل یوں ہے، جیسے کچھ خاص گھنٹوں میں ایک ہی وقت م یں ڈھیر ساری کاریں ایک ساتھ سڑکوں پر آ جاتی ہیں اور ٹریفک کا رش بڑھ جاتا ہے، بالکل ویسے ہی بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے دوران بھی کچھ رش آورز آتے ہیں۔‘‘

کینیڈا میں بجلی مہیا کرنے والی متعدد کمپنیاں دن کے مختلف اوقات میں بجلی کے مختلف نرخ وصول کرتی ہیں۔ رات گئے بجلی سستی ہوتی ہے اور صبح سویرے، دوپہر اور شام کے اوقات میں اس کے نرخ قدرے زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی