1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بجلی بیٹے کی زندگی میں روشنی لے آئی‘

رام کشور ایک طویل عرصے سے بہت لگن کے ساتھ اپنے بیٹے کے لیے ایک موزوں بیوی کی تلاش میں تھا تاہم اس کی یہ کوششیں تب کامیاب ہوئیں، جب اس کے گاؤں میں بجلی آئی۔

default

رام کشور کا تعلق آنند پور نامی گاؤں سے ہے، جو دارالحکومت دہلی سے 145 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے بقول، ’’بیٹے کے لیے دلہن تلاش کرنے میں مجھے اس لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کہ ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں تھی اور میں کسی کو دعوت نہیں دے پاتا تھا۔‘‘ تاہم اب بھارتی حکومت ہزاروں دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنے کے اپنے منصوبے پر کاربند ہے اور آنند پور بھی اسی منصوبہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے روشن ہو چکا ہے۔ اپنےکمرے میں بلب کی روشنی میں بیٹھ کر ہونے والی خوشی کشور کے چہرے پر عیاں ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں،’’اب میں اپنی بہو کے گھر والوں کی میزبانی کر سکتا ہوں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے ساٹھ سالہ کشور کا اشارہ بجلی کے میٹر کی جانب تھا۔

اس منصوبے کے تحت بھارت کے کوئی ساڑھے اٹھارہ ہزار دیہاتوں کو بجلی فراہم کی جائے گی، جو کوئی آسان کام نہیں ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بھارت بھر میں تین سو ملین افراد کو بجلی تک رسائی نہیں ہے۔ دنیش ارورا ایک سرکاری ملازم ہیں اور وہ وزارت توانائی کے ساتھ مل کر اس حکومتی منصوبے میں شریک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دور دراز کے ایسے بہت سے علاقے ہیں، جن تک زمینی راستے کے ذریعے پہنچا نہیں جا سکتا۔ ان کے بقول کچھ ایسے دیہات بھی ہیں، جو ماؤ باغیوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔ ان علاقوں میں اغوا، قتل اور لوٹ مار کے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے جانب سے اس اعلان کے بعد سے گیارہ ہزار کے لگ بھگ گاؤں کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جا چکا ہے۔

آنند پور کی ایک باسی ارمیلا دیوی کہتی ہیں، ’’میرے شوہر نے ایک پنکھا خریدنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ہم رات کو سکون سے سو سکیں اور وہ بھی مچھروں کے بغیر۔‘‘ اسی طرح کچھ اور خواتین اس بات پر خوش ہیں کہ اب وہ دن ڈھلنے کے بعد اپنی چار دیواری کے اندر بیٹھ کر کھانا پکا سکتی ہیں جبکہ گاؤں کے نوجوانوں کے لیے بجلی آنے کا مطلب اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ ہے۔ آنند پور کے پچیس میں سے اٹھارہ گھر اب روشن ہو چکے ہیں بقیہ سات ابھی اس مشکل میں گھرے ہوئے ہیں کہ کیا وہ ایک یا دو ڈالر کے برابر ماہانہ بل ادا کر بھی سکیں گے یا نہیں۔