1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

با اختیار اقوام ورلڈ آرڈر کی بنیاد ہونی چاہییں، ٹرمپ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی لیڈروں کی تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ انیس ستمبر سے شروع ہونے والے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر سب کی توجہ کی مرکز تھی۔

اجلاس کا افتتاح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اپنی تقریر سے کیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرائنی صورت حال، شمالی کوریائی جوہری ہتھیار سازی اور بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے لیڈر اپنے خودکش مشن پر روانہ ہیں اور اقوام عالم کے لیے اس ملک کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا از حد ضروری ہے۔ ٹرمپ نے کم جونگ اُن کو استہزائیہ انداز میں ’راکٹ مین‘ بھی کہا۔

جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کا خطاب، ایران اور شمالی کوریا اہم

روہنگیا بحران کے خاتمے کا آخری موقع، گوٹیرش کی سوچی کو تنبیہ

جنرل اسمبلی کا اجلاس، نگاہیں ٹرمپ کے خطاب پر جمی ہوئیں

اپنی تقریر میں امریکی صدر نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔ ایرانی حکومت کو ٹرمپ نے ایک بے رحم حکومت سے بھی تعبیر کیا۔ ایران کے ساتھ طے پانی والی جوہری ڈیل پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹرمپ نے اسے ایک یکطرفہ اور دنیا کے لیے باعثِ شرمندگی قرار دیا۔ اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ عالمی ورلڈ آرڈر کو اب اتحادوں کے ساتھ تعین کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ ذمہ داری بااختیار حکومت کی بنیاد پر طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنے دورِ صدرت میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

President Trump UN Diskussion (Getty Images/C.Ochs)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گرٹیرش جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل گفتگو میں مصروف

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اپنا اولین خطاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا شمالی کوریا کے ساتھ جوہری جنگ سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے لاکھوں انسان شمالی کوریائی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے خوف میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ گوٹیرش نے اس تقریر میں یہ بھی کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا کو شدید اضطراب کا سامنا ہے۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سیکریٹری جنرل کے بعد کئی برسوں سے برازیل کے صدر کو خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ گزشتہ پینتیس برسوں سے برازیلی لیڈر جنرل اسمبلی سے سب سے پہلے خطاب کرتے چلے آ رہے ہیں۔ منگل کے روز قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کا خطاب بھی اہمیت کا حامل ہو گا اور وہ یقینی طور پر خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پیدا تنازعے پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ انیس ستمبر منگل ہی کے روز اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن بھی تقاریر کریں گے۔ پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امکاناً اکیس ستمبر کو تقریر کریں گے۔

USA UN Hauptquartier in New York (DW/P. F. Rodriguez)

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وزیراعظم بھی شریک ہیں

جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں نے رپورٹرز کو بتایا کہ وہ اجلاس کے دوران عالمی سطح پر پائے جانے والے تنازعات اور اختلافی مسائل کو زیر بحث لائیں گے۔ لیدریاں نے یہ بھی کہا کہ سرد جنگ کے بعد عالمی سطح پر تنازعات نے جو تشویش پیدا کر رکھی ہے، اُس باعث اقوام کے درمیان تعاون مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک دوسرے پر انحصار کے دور میں موجودہ صورت حال بہت ساری پیچیدگیوں کی حامل ہو چکی ہے۔

رپورٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سارے ممالک اس بات پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جُل کر کام کرنے کی ضرورت کیوںکر ہے۔ لیدریاں نے ایسے ملکوں کے نام بتانے سے گریز کیا ہے لیکن خیال کیا گیا ہے کہ لیدریاں کا اشارہ یورپی ملکوں میں عوامیت پسندی کی مقبولیت اور موجودہ امریکی صدر کی پالیسیوں کی جانب ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اقوام کے انحصار پر سوالات اٹھانے کی ضرورت حقیقت میں خود غرضی کا نتیجہ قرار دی جا سکتی ہے۔

DW.COM