1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باگبو کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، وتارا

آئیوری کوسٹ میں تقریباﹰ ایک ماہ سے جاری بحران لاراں باگبو کی گرفتاری کے بعد ڈرامائی انجام کو پہنچ گیا ہے۔ اب اس افریقی ملک کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ صدر الاسان وتارا نے انتقامی کارروائی اور تشدد سے گریز پر زور دیا ہے۔

default

الاسان وتارا

الاسان وتارا نے پیر کو لاراں باگبو کی گرفتاری کے بعد نشریاتی خطاب میں کہا، ’میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ پرامن رہیں اور اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔‘

انہوں نے اس پیش رفت کو امید کے نئے دَور سے تعبیر کیا۔ وتارا نے باگبو، ان کی اہلیہ اور اتحادیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا بھی اعلان کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

پینسٹھ سالہ باگبو 2000ء سے اقتدار سنبھالے ہوئے تھے۔ گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب گرفتاری کے بعد انہوں نے اپنے حامیوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے بھی کہا ہے۔

وتارا کے وزیر اعظم اور سابق باغی رہنما غيوم سورو نے بھی ٹیلی وژن پر بیان میں کہا، ’برا خواب ٹوٹ چکا ہے۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ باگبو کی حامی فورسز پارٹی بدل لیں۔ اُدھر باگبو کی گرفتاری کے وقت موجود ایک فائٹر نے نام ظاہر نہ کرنے پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ باگبو کا سامنا وتارا کی فورسز کے ایک

Elfenbeinküste Laurent Gbagbo Verhaftung

گرفتاری کے بعد لی گئی لاراں باگبو کی تصویر

کمانڈر سے ہوا تو انہوں نے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کی۔ اس فائٹر نے کہا، ’جب ہماری فورسز سے ان کا سامنا ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے یہی کہا کہ انہیں قتل نہ کیا جائے۔‘

وتارا کی ترجمان Anne Ouloto نے اے ایف پی کو بتایا کہ گرفتاری کے فوراﹰ بعد باگبو اور ان کی اہلیہ کو گولف ہوٹل منتقل کر دیا تھا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں باگبو کی فورسز نے وتارا کے کیمپ کو مہینوں محصور رکھا۔

اقوام متحدہ میں آئیوری کوسٹ کے سفیر يوسفو بامبا نے بھی کہا ہے کہ باگبو کو مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’باگبو کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وہ زندہ اور بخیریت ہیں۔ وہ جن جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کے لیے انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔’

بامبا نے یہ بھی کہا کہ باگبو کی گرفتاری کے لیے کی گئی کارروائی صرف آئیوری کوسٹ کی فورسز نے کی۔ امریکی صدر باراک اوباما نے آئیوری کوسٹ میں ہونے والی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس