1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

باڑ کے نام پر بیچی گئی نئی بالی وُڈ فلم ’’تم ملے‘‘

بالی وُڈ کی تازہ فلم ’’تم ملے‘‘ کے بارے میں تشہیر کی جا رہی تھی کہ اِس میں جولائی سن دو ہزار پانچ میں ممبئی میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ تاہم دراصل یہ محض پیار محبت کی ایک عام سی کہانی ہے۔

default

فلم تم ملے کی ہیروئن سوہا علی خان

بھارتی فلمی صنعت بالی وُڈ میں تیار ہونے والی یہ فلم اِسی مہینے یعنی نومبر میں نمائش کے لئے پیش کی گئی ہے۔ فلم ساز مہیش بھٹ اور ہدایتکار کنال دیش مکھ کی اِس فلم کے بارے میں کہا یہ جا رہا تھا کہ اِس میں جولائی سن دو ہزار پانچ میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے اُس ہولناک سیلاب کو موضوع بنایا گیا ہے، جس میں ریاست مہاراشٹر اور خاص طور پر شہر ممبئی کے بیشتر علاقے زیرِ آب آ گئے تھے اور کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فلم کی کہانی بڑے ڈرامائی انداز میں شروع ہوتی ہے۔ بحیرہء عرب کی تُند و تیز طوفانی لہروں کے پس منظر میں ممبئی شہر کی سکائی لائن نظر آ رہی ہے اور آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں، جو بڑے خطرناک انداز میں شہر کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ ہم عنقریب بڑے پیمانے پر تباہی کے مناظر دیکھنے والے ہیں۔

Karafilm Festival

بھارتی فلم صنعت کی ممتاز شخصیات میں سب سے دائیں جانب مشہور فلم ساز اور ھدایت کار مہیش بھٹ بھی نظر آرہے ہیں

ایسا لیکن کچھ بھی نہیں ہوتا، کافی دیر تک نہیں ہوتا۔ ایک عام سی پیار محبت کی کہانی شروع ہو جاتی ہے، جس میں اکشے ہیرو ہے اور سنجنا ہیروئن۔ ہیرو کے کردار میں ہدایتکار کُنال دیش مُکھ نے عمران ہاشمی کو کاسٹ کیا ہے، جن کے ساتھ وہ اس سے پہلے فلم ’’جنت‘‘ بنا چکے ہیں۔

ہیروئن کے کردار میں ماضی کی معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور کی بیٹی اور آج کل کے معروف ہیرو سیف علی خان کی بہن سوہا علی خان جلوہ گر ہوئی ہیں۔ دونوں ملتے ہیں، پیار ہو جاتا ہے، پھر لڑائی ہو جاتی ہے اور دونوں کی راہیں ایک بار پھر جدا ہو جاتی ہیں۔

چھ سال کے طویل عرصے کے بعد اُن دونوں کی ملاقات طیارے میں ہوتی ہے، دونوں ہی ممبئی جا رہے ہیں۔ ممبئی میں طیارے سے اُتر کر دونوں اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں لیکن اِسی دوران شہر شدید بارشوں کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور ہیرو سب کچھ بھول بھال کر اپنی ہیروئن کو ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔

کیا ہوا جو شہر میں لاکھوں انسان بستے ہیں اور یہ اتنا بڑا اور پھیلا ہوا ہے، ہیرو کو فوراً ہی اُس کی ہیروئن مل جاتی ہے۔ باقی ساری کہانی فلیش بیکس میں ہے۔ سیلاب اور اُس کی تباہ کاریوں کا اِس فلم میں محض ضمناً ذکر کیا گیا ہے۔ اِس فلم پر معروف بھارتی ڈائریکٹر اور کہانی نگار اَتُل تیواڑی کا مختصر اور جامع تبصرہ:’’یہ فلم باڑ کے نام پر بیچی ضرور گئی ہے لیکن باڑ اِس میں صرف کلائمیکس میں آتی ہے‘‘۔

درحقیقت یہ ایک عام سی لو سٹوری ہے، جو ناظرین کو مطمئن کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم یہ فلم ایک اور وجہ سے کٹر ہندو قوم پرستوں کی مذمت کا نشانہ بن رہی ہے اور بھارت میں شدید نزاعی بحث مباحثے کا موضوع بن گئی ہے۔ غالباً مہیش بھٹ کے بیٹے راہول کے امریکی باشندے ڈیوڈ ہیڈلی کے ساتھ قریبی روابط تھے، جو آج کل امریکہ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی حراست میں ہے اور جس پر الزام ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ کے ایماء پر بھارت میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اِسی بناء پر راہول کو بھارتی پولیس کی کڑی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔

ریاست گجرات کے شہر راج کوٹ میں مہا گجرات جنتا پارٹی کے کارکنوں نے ایک ایسے سینما گھر پر حملہ بھی کیا، جہاں یہ فلم دکھائی جا رہی تھی۔ اِس حملے نے تماشائیوں کو شو چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اِس واقعے کے بعد راج کوٹ میں اِس فلم کے تمام شو منسوخ کر دئے گئے۔ مہا گجرات جنتا پارٹی کا مطالبہ ہے کہ ریاست بھر میں اِس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کی جائے۔ اِس جماعت کی داغ بیل گودھن زادافیہ نے گذشتہ برس بی جے پی کے کچھ باغی اراکین کے ساتھ مل کر ڈالی تھی۔ زادافیہ دو ہزار دو میں ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات کے دوران نریندر مودی حکومت میں وزیرِ داخلہ تھے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت : مقبول ملک