1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باڑ عبور کرنے والے مہاجرین کو گولی نہیں ماری جائے گی، ہنگری

ہنگری نے کہا ہے کہ جنوبی سرحد پر لگائی جانے والی نئی باڑ کو عبور کرنے والے تارکین وطن پر گولی چلانے کو کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس ملک نے سربیا سے ملحق سرحد پر باڑ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کو اصل میں سیاسی پناہ کی ضرورت نہیں ہے۔ آسٹرین براڈکاسٹر او آر ایف سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی، افریقہ اور ایشیا کے بحران زدہ علاقوں سے پہنچنے والے تارکین وطن کی زیادہ تر تعداد غربت سے فرار ہو رہی ہے جبکہ ان میں سے حقیقی پناہ کی ضرورت بہت کم لوگوں کو ہے۔

دوسری جانب ہنگری نے سربیا کے ساتھ ملحق اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا کام مزید تیز کر دیا ہے۔ تین اعشاریہ پانچ میٹر (گیارہ اعشاریہ پانچ فٹ) اونچی اس باڑ کا مقصد تارکین وطن کو ہنگری میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ ناقدین اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں ہنگری کے اس اقدام کی مذمت کر ر ہی ہیں۔ دوسری جانب ہنگری کے وزیراعظم نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے، ’’ہم یورپی قوانین کے مطابق پورپ کی حفاظت کر رہے ہیں اور یہ قوانین کہتے ہیں کہ سرحدوں کو چیکنگ کے بعد صرف مخصوص مقامات سے عبور کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Ungarn Flüchtlingskrise Rede Orban

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہاں تعینات فوجیوں کو گولی چلانے کا حکم بھی دیا جائے گا، تو ان کا کہنا تھا، ’’یہ ضروری نہیں ہوگا کیونکہ وہاں ایک ایسی باڑ ہوگی، جسے عبور نہیں کیا جا سکے گا۔ جو بھی اسے عبور کرنے کی کوشش کرے گا، اسے گرفتار کیا جائے گا اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ کسی بھی ہتھیار کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘

نوّے کی دہائی میں یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد سے اب تک یورپ کو سب سے بڑے مہاجرین کے بحران کا سامنا ہے اور یورپی یونین میں شامل ممالک اس بات پر بھی منقسم ہیں کہ کونسا ملک کتنے تارکین وطن کو پناہ دے گا۔ جرمنی اور آسٹریا کوٹہ سسٹم کے حامی ہیں جبکہ کئی دیگر ممالک اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اس کوٹہ سسٹم کے بارے میں ہنگری کے وزیراعظم کا کہنا تھا، ’’اگر یورپ کی بیرونی سرحدوں کو بلاک نہیں کیا جاتا تو کسی بھی سسٹم کے بارے میں بات کرنا فضول ہے۔ جب غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے یورپ کی بیرونی سرحدوں کو بند کیا جائے گا تو اس مسئلے کا حل بھی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔‘‘