1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

باوقار روزگار کا عالمی دِن آج منایا جا رہا ہے

آج دنیا بھر میں مزدوروں کے لئے باوقار روزگار کا عالمی دنیا منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں دنیا بھر میں مختلف ٹریڈ یونینز کے زیر انتظام مذاکرے اور مباحثے منعقد کئے جا رہے ہیں۔

default

ایک جرمن ہوائی اڈے کے باہر روزگار فراہم کرنے والی ایجنسی کا دفتر

مزدوروں کے لئے باوقار حالات کے عالمی دن کے موقع پر شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر دس میں سے چار مزدور طے شدہ معاہدے سے زائد گھنٹوں تک کام کرنے پر مجبور کئے جاتے ہیں۔ ان مزدوروں میں سے آدے سے زائد کو اضافی وقت کے لئے اجرت ادا نہیں کی جاتی۔ اس مرتبہ باوقار کام کے عالمی دن کے موقع پر عالمی مالیاتی بحران کے مزدوروں پر پڑنے والے اثرات کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مزدوں میں جنس کی بنا پر تفریق اور انہیں سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا بھی اس عالمی دن کے موقع پر موضوع گفتگو رہیں گے۔ تقریبا گزشتہ ایک سال سے عالمی اقتصادی بحران نے دنیا بھر میں ایک طرف تو کئی لاکھ مزدوروں کو بے روزگار کیا تو دوسری طرف کروڑوں مزدوروں کی اجرت میں کمی اور اضافی کام نے بھی ان کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کئے۔

Jobagentur

روزگار فراہم کرنے والی ایجنسی کا دفتر

جرمنی میں مزدوروں کی ٹریڈ یونین فیڈریشن DGB کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر پیر کے روز برلن میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں جرمن صدر ہورسٹ کوہلر اور چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ساتھ نمایاں سیاستدانوں اور دنیا کے تقریبا 150 ملکوں سے مختلف ٹریڈ یونینز سے وابستہ افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر ہورسٹ کوہلر نے زور دیا کہ عالمی مالیاتی بحران سے نکلنے کے لئے مزدور یونینز کی مدد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جرمن صدر کے مطابق:’’وفاقی جرمن لیبر یونین فیڈریشن کوئی فلاحی ادارہ نہیں اس پلیٹ فارم سے کام کرنے والوں یا ملازم پیشہ افراد کو روزگار کے معاملات میں اپنی رائے دینے اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے بلکہ یہ معاشرے کی ترقی اور ارتقا میں غیر معمولی کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

تقریب میں شریک انٹرنیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدر شرن بورو نے کہا کہ دنیا بھر میں مزدور خود کو لاحق معاشی مسائل پر سخت ناراض ہیں۔

’’عالمگیریت کے خطرات ان کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ہمیں ناراضگی کا حق حاصل ہے کیونکہ دنیا بھر میں لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں اور رواں برس اس حوالے سے گزشتہ برس سے زیادہ بھیانک ہو گا۔ اس وقت دنیا بھر میں 59 ملین مزدوروں کے بے روزگار ہو جانے کا خطرہ موجود ہے۔‘‘

جرمن لیبر یونین فیڈریشن کے صدر میشایل زومر نے اس موقع پر کہا :’’ہمارا پیمانہ مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کے حقوق ہیں اسلئے ہم کبھی بھی ان پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے جنہیں ہم غلط سمجھتے ہیں۔‘‘