1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

باوقار خودکُشی کو ممکن بنایا جائے، جرمن وفاقی عدالت

جرمنی کی ایک عدالت نے آج ایک فیصلہ سناتے ہوئے غیر معمولی حالات میں ایسی دوائی تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے استعمال سے موت واقع ہو جائے گی لیکن اس قانونی خودکُشی کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔

جرمنی کی وفاقی انتظامی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کو خاص حالات کے تحت ایسے مواد تک رسائی فراہم کی جا سکتی ہے، جس سے ان کی آسان اور بے درد موت واقع ہو سکے۔

جمعرات کو لائپزگ کی عدالت کی طرف سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی خودکُشی کرنے کی اجازت انتہائی مخصوص حالات میں دی جائے گی۔ ججوں نے یہ فیصلہ جرمن آئین کی شق نمبر دو میں موجود ہر شہری کے ذاتی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے سنایا ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح اپنی زندگی خود ختم کرنے کا اختیار صرف ان شدید اور لاعلاج مریضوں کو ہوگا جو آزادانہ فیصلے لینے اور خود سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

ابھی تک جرمنی میں قانونی طور پر اس طرح خودکُشی کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن اب اس فیصلے سے حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ایسے مریضوں کے لیے باوقار اور بے درد خود کُشی کو ممکن بنائے۔

اس فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک جرمن شہری اس حوالے سے ایک طویل عرصے سے قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے تھا۔  مدعی کی اہلیہ سن 2002ء میں ایک حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد گردن سے نیچے اس کا تمام جسم مفلوج ہو گیا تھا۔ اس متاثرہ مریضہ کو مصنوعی سانس سے زندہ رکھا جا رہا تھا اور اسے مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔

متاثرہ خاتون کا سن 2004ء میں کہنا تھا کہ اس طرح زندگی گزارنا اس کے لیے ناقابل برداشت اور ذلت آمیز ہے اور اُسی برس نومبر میں اس مریضہ نے جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے ادویات اور طبی آلات کی انتظامیہ کو زندگی ختم کرنے والی دوائی فراہم کرنے کی درخواست جمع کروا دی تھی۔

وفاقی ادارے نے یہ درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ ’ادویات کے مقاصد کے قانون کے تحت‘ اس کا فراہم کیا جانا ایک غیرقانونی عمل ہے۔

اس کے بعد مدعی اور متاثرہ خاتون یورپی ملک سوئٹزرلینڈ چلے گئے تھے جہاں سن 2005ء میں ایک امدادی تنظیم کی مدد سے مفلوج جرمن خاتون نے زندگی ختم کرنے والی دوائی حاصل کر لی تھی۔ تاہم اس متاثرہ خاتون کا شوہر ابھی تک جرمنی میں قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے تھا۔