1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بان کی مون کا دورہ چین

اقوام متحدہ نے اس سال ماحولیاتی آلودگی اور سبز مکانی اثرات کو کم سے کم کرنے کے طریقہ کار پر بالخصوص بڑے صنعتی ممالک سمیت دنیا کے تمام ریاستوں سے عمل درآمد کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کردی ہیں۔

default

بان کی مون نے زور دیا ہے کہ چین گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لئے دیگر ممالک کا ساتھ دے

اسی مقصد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون ان دنوں چین کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے چینی قیادت سے اس سلسلے میں ترقی پذیر ممالک کے لئے رول ماڈل بنے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے چینی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ سبز مکانی گیسوں کے اخراج کو کم کرکے زمین کی بڑھتی ہوئی حدت کو کنٹرول کرنے کے لئے عالمی برادری کی بھرپور مدد کرے۔ بان کی مون جمعرات کی رات سے چین کے چار روزہ دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں، جس کے بعد وہ منگولیا کا دورہ بھی کریں گے۔

بان کی مون نے بیجنگ میں ماحول دوست توانائی کے ایک منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال دسمبر میں کوپن ہیگن میں ماحولیاتی آلودگی پر ہونے والی بین الا اقوامی کانفرنس میں چین کی بھرپور حمایت کے بغیرکسی عالمی معاہدے تک نہیں پہنچا جاسکتا۔

بان کی مون نے چینی قیادت پر زور دیا کہ وہ سبز مکانی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرے، تاہم چینی وزیراعظم وین جیا باؤ نے بیجنگ کے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ زمینی حدت کو کم کرنے کے لئے ترقی یافتہ صنعتی ممالک کو زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

چینی صدر ہو جن تاؤ نے اقوام متحدہ کے کردار کو سراہتے ہوئے بان کی مون کو یو این کے تمام پرامن، ترقیاتی اور انسانی حقوق کی بہتری کے منصوبوں اور کاوشوں کی حمایت کا یقین دلایا۔ تاہم انہوں نے چینی صنعتی اداروں سے سبز مکانی گیسوں کے اخراج اور توانائی کے وسائل سے پیدا ہونے والی آلودگی پر بان کی مون کو کچھ خاص یقین دہانی نہیں کرائی۔

Premierminister China Wen Jiabao

چینی وزیراعظم وین جیاباؤ

ایک اندازے کے مطابق چین کی توانائی کی ضروریات کا 70 فیصد دارومدار کوئلہ پر ہے، جس کو جلانے سے مجموعی طور پراس ملک کی فضا میں 85 فیصد کے قریب کاربن کا اخراج ہوتا ہے، جو کہ ماحول کے لئے انتہائی مضر ہے۔

چینی گرین پیس نامی ماحول دوست تنظیم نے چینی حکومت سے کاربن گیسوں کے موجودہ اخراج میں 2020 ء تک پندرہ سے بیس فیصد تک کمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے چینی صدر ہو جن تاؤ اور وزیراعظم وین جیاباؤ سے علیحدہ علیحدہ ملاقات میں عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے چین کی کوششوں کو بھی سراہا۔

رپورٹ: انعام حسن خان

ادارت: عاطف بلوچ