1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بان کی مون میانمار پہنچ گئے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ میانمار فوجی حکومت کو مزید امداد لینے پر رضا مند کر لیں گے۔

default

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون

میانمارروانہ ہونے سے قبل بان کی مون نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام تر سیاسی اختلافات بھلا کر متاثرین کی مدد کی جائے۔ بان کی مون اپنے دورہ میانمار کے دوران وہاں تین ہفتے قبل آنے والے نرگس نامی سمندری طوفان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے علاوہ اتوار کے دن بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی ایک اہم میٹنگ مین بھی شرکت کریں گے۔

بان کی مون نے ینگون پہنچنے پر فوجی جنتا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طوفان سے متاثرہ تقریبا دو ملین افراد کو فوری مدد پہنچائی جائے۔

میانمار روانہ ہونے سے قبل تھائی لینڈ میں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے دورہ میانمار کے دوران طوفان سے شدید متاثرہ ایراوادی ڈیلٹا مین متاثرین سے ملیں گے اور میانمار فوجی حکومت کے سینئر اہلکاروں سمیت جنرل ٹان شوئے سے بھی ملاقات کریں گے۔

Myanmar Birma Zyklon Nargis Hilfe an die Bevölkerung in Rangon

ینگون کے نواحی علاقے میں امداد کی خاطر لرتے ہوئے متاثرین

واضح رہے کہ میانمار حکومت نے وسیع تر بین الاقوامی امداد پر ابھی تک پابندی عائد کر رکھی ہے ۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے بیس دن بعد ، ابھی تک امدادی اشیا کا صرف تیس فیصد حصہ تقسیم ہو سکا ہے۔

میانمار میں موجود بین الا قوامی صحافیوں کا کہنا ہےکہ شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی صوتحال ابھی تک نہایت ابتر ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق فوجی حکومت نے اقوام متحدہ کے دس ہیلی کاپٹرز کو متاثرہ علاقوں تک جانے کی اجازت دے دی ہے جو براہ راست امدادی سامان تقسیم کر سکیں گے لیکن برطانوی ، فرانسیسی اور امریکی امدادی بحری جہاز ، جو ایراوادی ڈیلٹا کے پاس سمندر میں موجود ہیں ،ان کو متاثرہ علاقوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

بان کی مون کے دورہ میانمار سے قبل عالمی خوارک پروگرام کے سربراہ جان ہولمز یہاں آئے تھے ۔جن کا کہنا ہے کہ وہ فوجی حکومت سے مذاکرات پر قطعا مطمیئن نہیں ہیں اورانہیں یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ متاثرہ علاقوں کتنے تباہ حال لوگ ابھی تک امداد کے منتظر ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ بان کی مون کی میانمار فوجی حکمرانوں سے مذاکرات سے شائد کوئی بہتر راستہ سامنے آسکے ۔

Nach Zyklon in Birma, Zerstörungen bei Rangun

سمندری طوفان سے تباہ حال ایک شخص عبادت میں مصروف

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کےاعداد وشمار کے مطابق تقریبا چوبیس لاکھ متاثرہ بے گھر افراد میں سے ایک چوتھائی کو بھی مدد نہیں ملی ہے۔ ان ند ترین حالات میں خواتین اور بچوں کی صورتحال کچھ زیادہ ہی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ پینے کے صاف پانی ،بنیادی طبی سہولیات اور دیگر اہم امدادی اشیا کی عدم موجودگی میں مختلف وباوں کا خوف بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

تین مئی کوآنے والی اس قدرتی آفت میں اب تک سرکاری بیان کےمطابق اٹھہتر ہزار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چھپن ہزار لاپتہ ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنطیموں کے مطابق ہلاک اور لاپتہ ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سےکہیں زیادہ ہے۔