1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بانقاب عورت کو بس میں بٹھانے سے انکار، ڈرائیور کے خلاف مقدمہ

جرمنی میں ایک بانقاب خاتون مسافر کو اپنی پبلک بس میں بٹھانے سے انکار کرنے والے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مقدمے میں بس ڈرائیور کو دس ہزار یورو تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

جمعرات تیرہ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ایک قصبے لیئر (Leer) میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق متعلقہ ڈرائیور نے اس خاتون مسافر کو اپنی بس میں سوار ہونے کی اجازت دینے سے متعدد مرتبہ انکار کر دیا تھا۔

حجاب کے باعث مسترد ہونے والی ٹیچر کو عدالت سے انصاف مل گیا

ہالینڈ: مخصوص عوامی مقامات پر برقعے اور نقاب پر پابندی

فرانس میں دو با حجاب ماؤں کو اسکول سے باہر نکال دیا گیا

جرمن شہر ایمڈن سے شائع ہونے والے اخبار ایمڈر سائٹنگ نے لکھا ہے کہ جس خاتون مسافر کو ڈرائیور نے بس میں بٹھانے سے انکار کیا، وہ حاملہ ہے اور بس میں سوار ہونے کی کوشش کے وقت اس نے پورے جسم کو ڈھانپنے والا برقعہ اور چہرے پر ایسا نقاب پہن رکھا تھا، جس میں سے صرف اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔

یہ واقعہ جس قصبے میں پیش آیا، وہ ایمڈن شہر کی بلدیاتی انتظامیہ کی عمل داری میں آتا ہے۔ ایمڈن میں مقامی انتظامیہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کئی بار پیش آنے والے اس واقعے کے باعث متعلقہ بس کمپنی کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

Niederlande Amsterdam Frauen mit Vollverschleierung (picture-alliance/ANP/R. Vos)

چند یورپی ملک اپنے ہاں عوامی مقامات پر خواتین کی طرف سے پورے جسم کے برقعے یا مکمل نقاب کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں۔ ان میں جرمنی شامل نہیں

ترجمان کے مطابق مقدمے کی سماعت کی ابھی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی لیکن عدالت بس ڈرائیور کو دس ہزار یورو تک جرمانے کی سزا سنا سکتی ہے۔

ایمڈن کا شہر جرمنی اور ہالینڈ کے درمیان سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں مقامی ٹرانسپورٹ سہولیات کے ذمے دار بلدیاتی محکمے کے ایک اہلکار ٹیمو پاپینگا نے بتایا کہ متعلقہ بس کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ ڈرائیور کا اقدام غلط تھا۔ ساتھ ہی بس کمپنی نے یہ بھی کہا کہ ڈرائیور نے ایسا اپنی ’لاعلمی‘ کی وجہ سے کیا۔

ٹیمو پاپینگا نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’اس قسم کا کوئی بھی واقعہ نہ تو پیش آنا چاہیے تھا اور نہ ہی ایسے کسی واقعے کو دوہرایا جانا چاہیے تھا۔‘‘

DW.COM