1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بالی کانفرنس

انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی کانفرنس جاری ہے اور وہاں موجود مندوبین مستقبل کی حکمت عملی مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔

default

بالی کانفرنس کے بارے میں یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ یہ کانفرنس کیوٹو پروٹوکول کے متبادل کے لیئے بات چیت کا پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے جنگلات کے تحفظ کے سلسلے میں خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ ماہرین اس پر بھی بظاہر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کے متبادل اور اس کے اخراج کو ذخیرہ کرنے کے لیئے ابھی مزید تجزیاتی مراحل درکار ہیں۔ اسی مقام سے زمین کے اوپری ماحول کو آنے والی نسلوں کے لیئے بہتر بنانے کی کوششوں کو ایک نئی جہت میّسر ہو گی۔ کانفرنس کے جاری مختلف ادوار میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں امریکہ جاپان اور کینیڈا کو خاصی تنقید کا سامنا ہے۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ایسی کانفرنسوں میں امریکی پالیسیوں میں سنجیدگی کافقدان ہے۔عالمی فنڈ برائے فطرت کے ماحولیاتی تبدیلی کے پروگرام کی نگرانی کرنے والے Hans Verolme بھی ان خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔

امریکہ کے سبز مکانی گیسوں کے اخراج کے موقف کے حامی جان ہوورڈ انتخاب ہار چکے ہیں ۔ آسٹریلیا کے نئے وزیر اعظم کیون رڈ نے وزیر اعظم کا حلف لینے کے بعد پہلا کام کیوٹو پروٹول پر دستخط کرنے کا کیا جس کے بعد امریکہ پر دباو میں اضافہ ہوا ہے۔۔جب کہ امریکی مندوب کا خیال ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے ماحولیاتی تبدیلیوں میں روک لگائی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیئے مثبت اورمظبوط بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مرحلے پر ترقی پذیر ملکوں کی خصوصی امداد کرنا ہو گی کیونکہ بھارت، سعودی عرب اور ایسے دوسرے ملک یہ محسوس کرتے ہیں کہ سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی سے ان کی اقتصادی اور صنعتی ترقی میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہوجائیں گی۔

ادھر، ماحول کوآلودہ کرنے والے سب سے بڑے یورپی ملک جرمنی میں امکانا بالی کانفرنس کے تناظر میں چانسلرآنگیلا میرکل کی کابینہ نے کارڈائی آکسائڈ گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے ایک بڑے ، چودہ نکاتی منصوبے کی منظوری دی ہے ۔ جرمن حکومت کی خواہش ہے کہ سن دو ہزار بیس تک بمقابلہ سن انیس سو نوے کے، سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں چھتیس فی صد کمی لا جائے اور اس پیچیدہ مشن کے لیئے اربوں روپے خرچ کئے جانے کا امکان ہے۔ اس منصوبے میںتوانائی کے متبادل ذرائع اور گھروں کو خاص انداز میں تزئین کرنا شامل کیا گیا ہے۔یہ ایک طرح کا پیغام بھی بالی کانفرنس کے شرکاءکے لیئے کہ وہ بھی اس راستے پر چل کر دنیا کو آلودگی سے بچانے اور ماحول کو بہتر کرنے کی کوشش میں شریک ہو سکتے ہیں۔