1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بالی وڈ میں حضرت عِیسیٰ کی زندگی پر فلم

بھارت کی فلمی صعنت بالی وڈ، فلموں کی پروڈکشن کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی فلمی صعنت مانی جاتی ہے۔

default

بالی وڈ کی معروف اداکارہ کترینا کیف

پچھلے کچھ سالوں میں بالی وڈ نے روایت سے ہٹ کر مختلف اور انوکھے موضوعات پر فلمیں بنائی ہیں، جس میں عامر خان کی 'تارے زمین پر'، شاہ رخ خان کی 'مائے نیم اس خان' اور جان ابراھم اور کترینا کیف کی 'نیو یارک' قابلِ ذکر ہیں۔

اب بالی وڈ میں ایک ایسے موضوع پر فلم بنائی جارہی ہے، جس پر ویسے تو بہت سی بین الاقومی فلموں بن چکی ہیں مگر بالی وڈ کے لئے ایک مختلف اور نیا موضوع ہے۔ جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے بالی وڈ کے مشہور ہدایتکار سنگاتھام شری نیواسا راؤ "حضرات عیٰسی' کی زندگی خاص کر ان کے بچپن پر تیس ملین امریکی ڈالر کی لگت کی ایک فلم بنانے جارہے ہیں۔ اس فلم کے پروڈیوسر کونڈا کرشنم راجو ہیں، جو تیلگو زباں کی کئی کامیاب فلموں پروڈیوس کر چکے ہیں۔

Passion Christi, Kinofilm

میل گبسن کی 2004 ء میں بننے والی فلم The Passion Of The Christ کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھ

اس فلم کو چار مختلف زبانوں میں بنایا جائے گا اور اس کے تیلگو اور ملیالم ورژن میں مرکزی کردار پاون کلیان ادا کریں گے۔ انگریزی اور ہندی کی کاسٹ کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس فلم کی عکس بندی بھارت اور اسرائیل میں کی جائے گی اور اس کی کہانی زیادہ تر حضرات عیسٰی کے بچپن کے گرد گھومے گی اور اس فلم میں کئی گانے بھی شامل ہونگے۔

ہدایتکار سنگاتھام شری نیواسا راؤ کا کہنا ہے 'امید ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں جنگ اور اختلافات ہیں وہاں اس فلم کے ذریعے امن اور محبت کا پیغام پہنچے گا'۔

Bollywood star Shahrukh Khan mit Regisseur Karan Johar

شاہ رخ خان کی''مائے نیم اس خان' ایک مختلف اور روایت سع ہٹ کر فلم تھی

اداکار کلیان کا کہنا ہے ’’اس فلم کو بھارت میں جہاں چوبیس ملین کی آبادی میں سے 2.3 فیصد عیسائی ہیں کافی پزیرائی ملے گی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں دوسرے مذاہب کے لئے کافی پرداشت موجود ہے۔

اس موضوع پر بننے والی دوسری فلموں میں ہالی وڈ کے مشہور اداکار اور ہدایتکار میل گبسن کی 2004 ء میں بننے والیThe Passion Of The Christ کو اس میں دکھائے جانے والے تشدد کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ اس فلم میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور سامی دشمن جذبات کو پھیلانے کے بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اسی حوالے سے1988میں مارٹن سکورسیسس کی فلمThe Last Temptation Of Christ کو بھی اس میں موجود جنسی مواد کی وجہ سے کافی مظاہروں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس