1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بالی وڈ افغانستان کے استحکام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، وکی لیکس

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہےکہ امریکی سفارتکاروں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ افغانستان میں استحکام لانے کے لئے بھارت کی ہندی فلم نگری کے بڑے ستاروں کو افغانستان بھیجا جائے۔

default

وکی لیکس کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2007 ءکو بھیجی جانے والی ایک خفیہ امریکی دستاویز میں یہ کہا گیا تھا کہ بھارت کے مشہور ترین فلمی ستارے، افغانستان میں قیام امن کے لئے بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دستاویز کےمطابق افغانستان میں ہندی فلمیں نہایت مقبول ہیں لہٰذہ سماجی مسائل پر وہاں لوگوں کی توجہ دلانے کے لئے اُن مشہور فنکاروں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، جو افغانستان جانے پر رضا مند ہوں۔

Flash-Galerie Afghanistan Land und Leute Bollywood in Kabul

افغانستان میں بھارتی فلموں کی مقبولیت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے

بھارت میں متعین امریکی سفارتکاروں کا دیا جانے والا یہ مشورہ، افغانستان میں عوامی سطح پر معاونت فراہم کرنے کے لئے بھارت کو دئے گئے کردار کا حصہ تھا۔ اس کے علاوہ کھیل اورکاروباری میدان میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تبادلوں کا خیال بھی شامل تھا تاہم اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

بھارت کی بالی ووڈ فلم انڈسٹری سالانہ دو بلین ڈالرز کا بزنس کرتی ہیں۔ یہاں کی ہندی فلمیں نہ صرف بھارت بلکہ پڑوسی ممالک پاکستان، افغانستان اور خلیجی ملکوں میں بھی نہایت مقبول ہیں۔ افغانستان میں یہ فلمیں باقاعدگی سے ٹی وی پر دیکھائی جاتی ہیں جبکہ ان فلموں کےگیت بھی عوام میں پسندیدگی کی سند رکھتے ہیں۔

Videoladen in Kandahar

افغانستان میں بھارتی فلمیں کرایہ پر دینےکا کاروبار کافی منافع بخش ہے

نئی دہلی میں متعین امریکی سفارتکار بھارت کو افغانستان کا قریبی اتحادی ٹہراتے ہیں۔ تاہم اس دستاویز میں خبردار کیا گیا تھا کہ اس پروگرام کے ذریعے افغانستان پر بھارت کا اثر رسوخ بڑھے گا، جس کی وجہ سے بھارت کے پڑوسی اور روایتی حریف ملک پاکستان کو تحفضات لاحق ہو سکتے ہیں، جو اس خیال کو عملی جامعہ پہنانے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے۔

شدت پسند طالبان حکومت کے خاتمے بعد سے اب تک بھارت، افغانستان کے لئے 1.3 بلین ڈالرز وقف کر چکا ہے جبکہ ہزاروں بھارتی، افغانستان میں تعمیر نوکے کاموں،صحت و صفائی اور بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM