بالی وُڈ فلم’ایئرلفٹ‘ پر نئی دہلی حکومت سخت برہم | فن و ثقافت | DW | 29.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بالی وُڈ فلم’ایئرلفٹ‘ پر نئی دہلی حکومت سخت برہم

بالی وُڈ کی بہت زیادہ مقبولیت حاصل کرنے والی ایک حالیہ فلم ’ایئر لفٹ‘ نے نئی دہلی حکومتی حلقے میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

اس فلم میں 1990ء میں عراق کی جانب سے کویت پر قبضے کے بعد کویت سے ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد بھارتی باشندوں کو وہاں سے نکالنے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم میں بھارتی سفارتکاروں کی خود غرضی دکھائی گئی ہے ساتھ ہی فلمی مناظر سے اندازہ ہوتا ہے کہ کویت میں متعینہ یہ سفارتکار اپنے ہم وطنوں کو درپیش مسائل کے احساس سے عاری اور حساسیت سے محروم تھے۔ بھارتی حکومت اس فلم میں اپنے سفارتکاروں کی تصویر گری پر سخت برہمی کا اظہار کر رہی ہے۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے گزشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی اس فلم کے بارے میں ایک بیان میں اسے ’افسانہ طرازی‘ قرار دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے جمعرات کو رات گئے ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے، ’’یہ فلم تفریح سے بھرپور تاہم حقائق سے دور ہے‘‘۔ سواروپ جن کے ناول پر مبنی بالی ووڈ کی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی تھی، کا ایک کہنا تھا، ’’فلمیں اکثر و بیشتر حقائق اور اصل واقعات کی بجائے مفروضات اور مغالطے پر مبنی ہوتی ہیں اور خاص طور سے فلم ایئر لفٹ میں 1990ء میں کویت میں ہونے والے واقعات کی منظر کشی میں فنی آزادی کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔‘‘

Slumdog Millionaire CD Cover

سواروپ کے ناول سے ماخوذ فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘

1990ء میں کویت سے بھارتی باشندوں کے انخلاء کا مشن قریب دو ہفتوں تک جاری رہا تھا اور اس کے لیے قریب 500 فلائٹس استعمال ہوئی تھیں۔ اس اعتبار سے یہ بھارت کی تاریخ کا اپنے شہریوں کو نکالنے کا سب سے بڑا مشن سمجھا جاتا ہے اور یہ بھارت کے لیے بہت زیادہ ناز و افتخار کا ذریعہ بنا۔

بھارت کے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بھارتی وزارت دفاع نے اس متنازعہ فلم کے بارے میں بیان دینے کا فیصلہ دراصل اُس بھارتی سفارتکار کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا جو اب سفارت کار نہیں ہیں، تاہم فلم ایئرلفٹ میں اُنہی کے کردار کو فلمایا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سواروپ کے بقول، ’’عوامی سوچ یا تخیلات پر بالی ووڈ کے اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ سوچا کہ کویت کے اُن واقعات کے حقائق کا تفصیلی بیان ضروری ہے۔ وہ واقعات یقیناً بھارتی سفارتکاروں، بیوروکریٹس اور ایئر انڈیا کے پائلٹوں اور سرکردہ شہریوں کی بے مثال کوششوں کا نتیجہ تھے۔ اسی سبب انہیں بھارتی تاریخ کا اپنے شہریوں کو نکالنے کا یہ سب سے بڑا مشن قرار دیا گیا۔‘‘

Inder verlassen den Jemen

بحران زدہ ملک یمن سے بھارتی باشندوں کا انخلاء

سواروپ کا مزید کہنا تھا، ’’ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ فلم لوگوں کو اُن واقعات کے حقائق جاننے اور اُن کے بارے میں پڑھنے کی ترغیب دلائے گی۔‘‘

بھارتی وزارت خارجہ کے اس بیان نے لوگوں کو جنگ زدہ ممالک یمن، عراق اور شام سے ہزاروں بھارتی باشندوں کے انحلاء کے واقعات یاد دلا دیے ہیں تاہم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی طرف سے عراقی شہر موصل پر 2014 ء میں قبضے کے بعد جو 40 بھارتی تعمیراتی کارکُن لاپتہ ہوئے تھے وہ اب بھی لاپتہ ہیں۔

DW.COM