1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بالوں کی تجارت میں بھارت سر فہرست

بھارت میں منائے جانے والےکئی مذہبی تہواروں میں لوگ اپنے بال منڈواتے ہیں۔ بعد ازاں عقیدت مندوں کے یہ بال دیگر ملکوں کو برآمد کر دیے جاتے ہیں۔ اس وقت بھارت بالوں کی برآمد میں دنیا میں سرفہرست ملک بن گیا ہے۔

default

فیشن کی دلدادہ مغربی خواتین میں مصنوعی طریقے سے اپنے بال لمبے کرانے کے رجحان میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ بھارت سے پہلے ہی ایک بہت بڑی تعداد میں بال برآمد کیے جاتے تھے اور اب بھارت دنیا میں اس تجارت میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس کاروبار سے منسلک کمپنیوں کے مطابق بھارت سے بالوں کی تجارت کا سالانہ حجم 8.5 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بھارت میں منتوں اور مرادوں کو پورا کرنے، قسمت کی دیوی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے اور اسی طرح اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے عقیدت مند دیوتاؤں کے سامنے اپنے بالوں کو قربانی دیتے ہیں۔ یہ مذہبی رواج جنوبی بھارتی ریاست تامل ناڈو میں بہت عام ہے، جہاں ملک بھر سے لوگ اپنے سر منڈوانے آتے ہیں۔

Uraufführung des neuen Stücks von Pina Bausch in Wuppertal

دنیا بھر میں مصنوعی بال لگارانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے

تاہم بالوں کی تجارت کرنے والے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والی اقتصادی ترقی عوام کی سوچ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ لوگوں کی مذہب سے رغبت کم ہوتی جا رہی ہے اور آزاد خیالی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چنئی کی کمپنی راج ہیئر انٹرنیشنل سے تعلق رکھنے والے تاجر جارج چیریئن نے بتایا، ’’نوجوان نسل اب مندروں کا رخ کم کرتی ہے اور نہ ہی اس کی اپنے بالوں کو کٹوانے میں کوئی دلچسپی ہے۔ ہاں کبھی کبھی بال توکٹوائے جاتے ہیں لیکن نوجوان سر نہیں منڈواتے‘‘۔

چنئی کے شمال میں تیروتانی کے مندر میں کسی بھی مذہبی تہوار کے دن ایک ہزار سے زائد عقیدت مند آتے ہیں، جن میں سے 50 سے 60 خواتین اپنے بال منڈواتی ہیں۔ آنندی پرومالسوامی ایک ہندو خاتون ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دیوتا ’مُورُنگا‘ سے انہیں سب سے زیادہ عقیدت ہے۔ ’’مجھے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ میں نے منت مانی کہ اگر میرے بیٹے کی شادی ہو جائے تو میں اپنے بال منڈوا دوں گی‘‘۔ پرومالسوامی کے بقول چند ماہ پہلے ان کے بیٹے کی شادی ہو گئی ہے اور اس وجہ سے وہ مندر میں اپنے وعدے کو پورا کرنے آئی ہیں۔

Haarverlängerung

یورپ میں مصنوعی اانداز میں بال لمبے کروانا انتہائی مہنگا ہے

مختلف بھارتی مندروں سے ٹنوں کے حساب سے بال ہول سیلرز کو فروخت کیے جاتے ہیں۔ اس سے مندروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے بہت سے سماجی کام اب بغیر کسی رکاوٹ کے سر انجام پاتے ہیں۔ ایک کلو بالوں کی قیمت 250 ڈالر ہے جبکہ آج سے 15سال پہلے ایک کلو بال 20 ڈالر میں فروخت ہوتے تھے۔ سب سے زیادہ اہمیت ’ریمی‘ نامی بالوں کو دی جاتی ہے، جو بالکل جڑ سے کاٹے جاتے ہیں۔ لندن کے معروف مائیکل جانسن سیلون میں مصنوعی طریقے سے بالوں کو لمبا کرنے کے لیے 600 پاؤنڈ تک لیے جاتے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : مقبول ملک

DW.COM