1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بالواسطہ مذاکرات تاحال بے نتیجہ، فلسطينی وزیراعظم

فلسطينی وزير اعظم سلام فياض نے کہا ہے کہ فلسطينيوں اور اسرائيل کے درميان بالواسطہ مذاکرات ميں پيش رفت اتنی زیادہ نہيں کہ اُس کی بنياد پر اطراف کے مابین براہ راست بات چیت شروع کی جا سکے۔

default

سلام فیاض برلن میں جرمن وزیر خارجہ ویسٹر ویلے کے ہمراہ، فائل فوٹو

ان فلسطینی اسرائیلی بالواسطہ مذاکرات کا آغاز مئی ميں امريکی ثالثی میں ہوا تھا اور پروگرام کے مطابق انہیں چار ماہ تک جاری رہنا ہے۔ امريکی سفارت کار فلسطينيوں اور اسرائيل کو مذاکرات کی ميز پر لانے کے لئے دونوں کے درميان مشترکہ امور تلاش کرنے پر توجہ دے رہے ہيں۔

اپنے دورہء فرانس کے دوران فلسطينی وزير اعظم سلام فياض نے جمعرات کی رات فلسطینیوں کے لئے امداد کے سلسلے ميں اعلیٰ يورپی حکام کے ساتھ بات چيت کے دوران کہا: ’’ابھی بالواسطہ مذاکرات میں اتنی ترقی نہيں ہوئی کہ براہ راست مکالمت کے بارے ميں سوچا جا سکے۔‘‘ انہوں نے صحافيوں کو بتايا کہ اصل مسئلہ براہ راست يا بالواسطہ بات چیت کا نہيں بلکہ سياسی پيش رفت اور اس کے لئے پختہ ارادے کا ہے۔

اس حوالے سے اسرائيلی وزيراعظم نيتن ياہو کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی پيشگی شرائط کے بغير اور بلاتاخير دوطرفہ مذاکرات کا آغاز چاہتے ہيں۔ اندازہ ہے کہ اگلے ہفتے اُن کے دورہء واشنگٹن کے دوران بھی اس سلسلے میں صدر باراک اوباما کے ساتھ تفصیلی بات چيت دیکھنے میں آئے گی۔

Jerusalem Siedlungsbau

فلسطینی انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں جملہ تعمیراتی منصوبے بند کرے

فلسطينی صدر محمود عباس کا مطالبہ ہے کہ براہ راست مذاکرات سے پہلے اسرائيل مقبوضہ علاقوں ميں يہودی بستيوں کی تعمير مکمل طور پر روک دے۔ صدر عباس یہ بھی چاہتے ہیں کہ نيتن ياہو اسرائیلی فلسطینی سرحدوں اور سکيورٹی کے مسئلے پر بھی لچک کا مظاہرہ کريں۔ اسی دوران مصری وزير خارجہ احمد ابوالغيث نے، جو پيرس کی ميٹنگ ميں شريک تھے، کہا کہ اگر اسرائيلی فلسطينی مذاکرات اپنی موجودہ شکل میں لاحاصل رہتے ہیں، تو عرب رہنما ايک آزاد فلسطينی رياست کے بلاتاخیر قیام کے لئے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیں گے۔

چار کا گروپ اور سلامتی کونسل

مصری وزير خارجہ ابوالغيث نے کہا کہ اگر بالواسطہ مذاکرات ميں ستمبر تک کوئی پيش رفت نہ ہوئی تو عرب ليگ کے وزرائے خارجہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذريعے متفقہ اقدامات پر تیار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدم پيش رفت کی موجودہ صورتحال کو سال رواں کے بعد تک بھی جاری نہیں رہنا چاہئے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے ميں ثالثی کرنے والے چار کے گروپ، امريکہ، اقوام متحدہ، يورپی يونين اور روس کی کوششیں ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے اصل راستہ سلامتی کونسل سے مدد لينے کا ہے۔

مشرق وسطی کے تنازعے کے حل کے لئے چار کے اس گروپ کے نمائندے اور سابق برطانوی وزيراعظم ٹونی بلیئر نے پیرس میں صحافيوں کو بتايا کہ وہ اگلے ہفتے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ جائيں گے۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ انہيں اميد ہے کہ اسرائيل جلد ہی غزہ کی ناکہ بندی کے بارے ميں لازمی طور پر درکار وضاحت پیش کر دے گا۔

اسرائيل نے طویل عرصے سے حماس کے زير انتظام غزہ پٹی کی تمام سرحدوں کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے کيونکہ اس کا کہنا ہے کہ ان راستوں سے وہاں اسلحہ اسمگل کیا جاتا ہے۔ لیکن ترکی کی مدد سے بہت سا امدادی سامان غزہ پہنچانے کی کوشش کرنے والے بحری قافلے پر اسرائيلی کمانڈوز کی خونریز کارروائی اور اس پر زبردست عالمی احتجاج کے بعد اب اسرائیل اس فلسطینی علاقے کی ناکہ بندی میں کچھ نرمی کر چکا ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM