1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بالآخر پورے شام میں جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا

کئی برسوں سے خانہ جنگی کی شکار ریاست شام میں بالآخر پورے ملک میں جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے جبکہ صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ دمشق حکومت ملک کے ہر حصے پر اپنے اقتدار اور قبضے کی بحالی کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

لبنانی دارالحکومت بیروت سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق شامی فوج نے آج اعلان کیا کہ مقامی وقت کے مطابق پیر بارہ ستمبر کی شام سات بجے (عالمی وقت کے مطابق پیر کی سہ پہر چار بجے سے) پورے ملک میں جنگ بندی کی صورت میں ’سکون‘ کے سات روزہ وقفے کا آغاز ہو گیا ہے۔

اس طرح دمشق میں صدر اسد کی حامی ملکی فوج کی اعلیٰ قیادت نے یہ تصدیق بھی کر دی کہ اس نے بھی امریکا اور روس کی کوششوں سے طے پانے والے شامی خانہ جنگی میں فائر بندی کے اس معاہدے کو عملی طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس سے اس کے طے پانے سے لے کر اب تک شام میں قیام امن کے خواہش مند حلقے کافی زیادہ امیدیں وابستہ کر چکے ہیں۔

شامی فوج کی تنبیہ

روئٹرز کے مطابق شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے اپنی نشریات میں فوج کی طرف سے اس جنگ بندی پر عمل درآمد کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی مسلح افواج نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے، ’’سات روزہ فائر بندی کا آغاز تو ہو گیا ہے تاہم شامی فوج یہ حق محفوظ رکھتی ہے کہ اگر مسلح گروپوں نے اس معاہدے کی کوئی بھی خلاف ورزی کی، تو ہر قسم کی فوجی طاقت استعمال کرتے ہوئے ایسی کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘

اسی دوران دمشق سے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے بھی لکھا ہے کہ شام میں باغیوں اور حکومتی دستوں کے مابین جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی حمایت سے طے پانے والا سیزفائر معاہدہ پروگرام کے مطابق پیر کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی نافذالعمل ہو گیا ہے۔

بنیادی طور پر اس معاہدے کے لیے سب سے زیادہ کوششیں امریکا اور روس نے کی تھیں اور اس کا اطلاق پورے شام پر ہوا ہے، سوائے ان علاقوں کے جو مسلح جہادی گروپوں کے کنٹرول میں ہیں۔

اس معاہدے کے عملی مستقبل کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اب تک اس ڈیل پر دمشق حکومت اور اس کے داخلی عسکری اتحادی تو دستخط کر چکے ہیں تاہم شامی اپوزیشن کی عسکری قوتوں کی طرف سے ابھی تک اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

اسد کا شام کے ہر حصے پر دوبارہ کنٹرول کا عہد

ادھر دمشق ہی سے ملنے والی دیگر رپورٹوں میں شامی صدر بشار الاسد کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ شامی حکومت ملک کے چپے چپے پر اپنا کنٹرول بحال کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق بشار الاسد نے فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد سے محض چند گھنٹے قبل اپنے ایک بیان میں کہا، ’’حکومت پورے ملک کی تعمیر نو کے لیے ریاستی علاقے کے ہر حصے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا کر اپنے کنٹرول میں لینے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔‘‘

Syrien Damaskus Präsident Assad in Moschee /Ausschnitt)

شامی صدر اسد پیر کے روز داریا میں عید کی نماز پڑھتے ہوئے

اس موقع پر صدر اسد نے کہا، ’’ہم تمام شامی باشندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اب مصالحت کا راستہ اپنائیں۔‘‘ بشار الاسد نے یہ باتیں ’سانا‘ کے ساتھ ایک ایسے انٹرویو میں کہیں، جو انہوں نے داریا میں دیا۔ داریا شامی دارالحکومت دمشق کا ایک ایسا مضافاتی علاقہ ہے، جہاں ملکی حکومت کا کنٹرول ابھی گزشتہ مہینے ہی بحال ہوا تھا۔

اس انٹرویو سے قبل بشار الاسد نے ایک طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ منظر عام پر آ کر داریا ہی میں پیر کے روز عوامی سطح پر عیدالاضحیٰ کی نماز بھی ادا کی۔

DW.COM