1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بالآخر پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت روانہ

آئی سی سی عالمی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں حصہ لینے کی اجازت ملنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم بالآخر ہفتے کی صبح بھارت روانہ ہو گئی ہے۔

سیکورٹی کلیرنس ملنے کے بعد پندرہ کھلاڑیوں اور بارہ آفیشلز پر مشتمل ٹیم لاہور سے براستہ ابوظبی، دہلی پہنچ رہی ہے، جہاں سے اسے اپنی آخری منزل کلکتہ روانہ ہونا ہے۔

DW.COM

بھارت میں پاکستانی کرکٹرز کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد بدھ کو آئی سی سی نے پاکستان اور بھارت کا انیس مارچ کو شیڈول اہم میچ دھرم شالہ سے کلکتہ منتقل کردیا تھا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے مودی سرکار سے ٹیم کے تحفظ کی تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے بھارت جانے سے روک دیا تھا۔

اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان اس تازہ ڈیڈلاک نے پاکستانی کھلاڑیوں کو لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں چار دن تک انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھا اور بلآخر سرحد پار سے حفاظتی ضمانت ملنے پر ٹیم کو جمعہ کی شام بھارت جانے کی اجازت مل گئی۔

اسی تعطل کے باعث ہفتے کو ایڈن گارڈن پر بنگال کی رانجھی ٹیم سے ہونے والا پاکستان کا پہلا وارم اپ میچ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے اب پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے اسی تاریخ ساز مقام پر پیر کو اپنا اکلوتا پریکٹس میچ سری لنکا سے کھیلے گی۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی بس کو رات گئے پولیس کے سخت پہرے میں نشتر پارک کے علاقے سے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچایا گیا۔ بہت پرجوش اور تروتازہ نظر آنے والے ان کھلاڑیوں میں محمد عامر بھی شامل تھے، جو اسپاٹ فکسنگ کی پانچ سالہ پابندی بھگتنے کے بعد اپنا پہلا آئی سی سی ایونٹ کھیلنے جا رہے ہیں۔

چھتیس سالہ آل راونڈر شاہد آفریدی پاکستانی سکواڈ کی قیادت کر رہے ہیں۔ آفریدی کا یہ ریکارڈ مسلسل چھٹا اور آخری ٹوئنٹی ٹوئنٹی عالمی کپ ہو سکتا ہے۔ آفریدی نے روانگی سے پہلے کہا، ’’ہم تمام غیریقینیوں اور تحفظات کو پیچھے چھوڑ کر بھارت جا رہے ہیں۔ ہماری توجہ صرف کرکٹ اور جیت پر مرکوز ہے۔ آفریدی نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کی حالیہ ایشیا کپ میں کارکردگی بہتر نہ تھی تاہم انہوں نے کہا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم تیار ہے۔‘‘

دریں اثنا کلکتہ روانگی سے قبل کپتان آفریدی نے سابق کپتان عمران خان اور وسیم اکرم کو ٹیلی فون کرکے انہیں ورلڈکپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے قائل کیا۔ انیس سو بانوے کے عالمی کپ کے فاتح کپتان عمران خان اور وسیم اکرم اپنی میڈیا کمٹمنٹس کی وجہ سے انیس مارچ کو پاک بھارت میچ کے موقع پر کلکتہ میں ہی موجود ہوں گے، جہاں پاکستانی کھلاڑیوں کو وہ کامیابی کے گر بتائیں گے۔ آفریدی نے کہا کہ وہ دونوں لیجنڈز کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے ٹیم کی حوصلہ افزائی کی حامی بھری۔

بورڈنگ سے پہلے پاکستانی ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ورلڈ کپ کا سفر شروع ہوچکا۔ ’’ہم یہ اعزاز جیتنے کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔‘‘ وہاب نے کہا کہ اس ٹیم کو اپنے پرستاروں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ عالمی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں پاکستان اپنا پہلا میچ کوالیفاینگ راونڈ میں نبردآزما بنگلہ دیش اور اومان میچ کے فاتح سے سولہ مارچ کو ایڈن گارڈن پر کھیلے گا۔

Pakistan Kricket Muhammad Amir

محمد عامر اسپاٹ فکسنگ کی پانچ سالہ پابندی بھگتنے کے بعد اپنا پہلا آئی سی سی ایونٹ کھیلنے جا رہے ہیں

کرکٹ کے ایک شوقین عامر افتخار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سیاسی کھچڑی کے باعث پاکستان سولہ اقوام کے ان مقابلوں میں بھارتی سرزمین پر قدم رکھنے والی آخری ٹیم ہے کاش یہ ٹورنامنٹ سے واپس آنے والی بھی آخری ٹیم بنے۔

آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے پی سی بی نے دو کٹس تیار کروائی ہیں۔ دونوں کا رنگ ’آل گرین‘ ہے۔ پاکستان ٹیم کی اوسط عمر انتیس برس ہے اور سات کھلاڑی ایسے ہیں جو تیس کے پیٹے میں ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک افسر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی نے پاکستان ٹیم کی ٹورنامنٹ میں شرکت یقینی بنانے کے لیے تنازعہ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گنگولی نے حال ہی میں مرحوم جگموہن ڈالمیا کی جگہ بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن کی صدارت کا منصب سنبھالا ہے اور انہوں نے ہی بنگال کی وزیراعلیِ ممتا بینرجی کو پاکستان ٹیم کی حفاظتی ضمانت دینے قائل کیا۔

پاکستان کی خواتین کی کرکٹ ٹیم بھی بھارت روانہ ہو گئی ہے، جو خواتین کے عالمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شرکت کرے گی۔ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثنا میر نے کہا ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ کے بعد کپتانی سے الگ ہو جائیں گی۔ پاکستانی خواتین کی ٹیم اپنا پہلا میچ سولہ مارچ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف چنئی میں کھیلے گی۔