1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باغی سپاہیوں کی مددعسکریت پسندوں نے کی، بنگلہ دیش

بنگلہ دیش میں بارڈر گارڈز کی بغاوت کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس میں معاونت کے لئے امریکی اوربرطانوی تفتیشی ادارے ڈھاکہ میں موجود ہیں۔ جمعرات کو حکام نے اعلان کیا ہے کہ بغاونت میں سپاہیوں کی مدد عسکریت پسندوں نے کی تھی۔

default

متعدد فوجی افسران کو قتل کر دیا گیا تھا

بنگلہ دیشی حکام نے کالعدم تنظیم جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش کو بارڈر گارڈز کی بغاوت کا ذمےدار قرار دیا ہے۔ وزیر تجارت فاروق خان نے تفتیشی ٹیم کے حوالے سے ایک خبررساں ادارے کو بتایا کہ جے ایم بی نے باغی سپاہیوں کی مدد کی تھی:"سپاہیوں کی بغاوت میں جے ایم بی کے ملوث ہونے کے بارے میں کچھ معلومات ملی ہیں۔ تحقیقات مکمل ہوجائیں تو حقائق منظرپرلائیں گے، اور پھر ہی وثوق کے ساتھ کچھ کہا جا سکے گا۔ "

Touhidul Alam Führer der BDR in Bangladesch wird festgenommen


گزشتہ ماہ بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوآرٹرز میں باغی سپاہیوں نے فوج کے اعلیٰ عہدے داروں سمیت کم از کم 70 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ بیشتر افراد کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی تھیں۔ باغی سپاہیوں نے تنخواہوں اور کام کے حالات کو بغاوت کی وجہ قرار دیا تھا۔ تاہم وزیر اعظم شیخ حسینہ نے الزام لگایا تھا کہ یہ جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی ایک کوشش تھی۔

فاروق خان نے بتایا کہ 40 افراد زیر حراست ہیں جن میں سے بعض کا تعلق جے ایم بی سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشتبہ افراد بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہی تھے، انہیں کیوں بھرتی کیا گیا، یہ جاننے کے لئے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

بغاوت کے بعد ڈھاکہ میں حکام نے ایک ہزار افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم وزیر تجارت کے مطابق اس حوالے سے بیشتر اعدادوشمار علامتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہلاک ہونے والے افراد، بغاوت میں ملوث سپاہیوں اور فرار ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں اعدادوشمار کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی۔ فاروق خان نے کہا کہ بی ڈی آر کیمپ سے بہت سے ہتھیار بھی غائب ہیں۔

Bangladesh verschwundene Offiziere nach Meuterei

حکومت کی مقرر کردہ تفتیشی ٹیم سپاہیوں کی بغاوت کے حوالے سے رپورٹ 19مارچ کو پیش کرنے والی ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی فوج خود بھی اس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں نے اس اقدام کو فوج اور نومنتخب حکومت کے درمیان کشیدگی کا باعث قرار دیا ہے۔

بنگلہ دیش میں عسکریت پسند تنظیمیں متعدد حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ اگست دوہزار پانچ میں صرف ایک دن میں ہی جے ایم بی نے چار سو دھماکے کئے تھے۔ تاہم فاروق خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے زیر انتظام ملک میں بدامنی کا کوئی خدشہ نہیں اور سرحدیں محفوظ رہیں گی۔