1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باغی ترک جنرل امریکا کے زیر استعمال فضائی اڈے سے گرفتار

ترکی میں سینکڑوں ہلاکتوں کا سبب بننے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ایئر فورس کے ایک سینیئر جنرل اور کئی دیگر باغی افسروں کو داعش کے خلاف حملوں کے لیے امریکی دستوں کے زیر استعمال ایک ترک فضائی اڈے سے گرفتار کیا گیا۔

Türkei Air Force A400 auf Incirlik Airbase

انجیرلیک ترکی فضائیہ کا ایک انتہائی اہم اڈہ ہے

استنبول سے اتوار سترہ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ترک حکام نے فوجی بغاوت کے حامیوں میں سے ملکی ایئر فورس کے ایک سینیئر جنرل اور کئی دیگر اعلیٰ افسران کو صدر رجب طیب ایردوآن کی انتظامیہ کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں جس انتہائی اہم ملکی ایئر بیس سے گرفتار کیا، وہ امریکی دستوں کی طرف سے شام میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف فضائی حملوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ترک روزنامہ ’حریت‘ نے اپنی اتوار کی اشاعت میں لکھا کہ ملکی فضائیہ کے بریگیڈیئر جنرل بیکِر ایرچان وان اور ایک درجن سے زائد دیگر افسروں کو کل ہفتہ سولہ جولائی کے روز حراست میں لیا گیا۔ جنوبی ترکی کے صوبے آدانا میں قائم اس فضائی اڈے کا نام اینجرلیک (Incirlik) ایئر بیس ہے۔

ترک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے دوران اور بعد میں گرفتار کیے گئے ہزاروں دیگر فوجی اہلکاروں کی طرح جنرل ایرچان وان اور ان کے ہمراہ حراست میں لیے گئے دیگر افسران سے بھی ماہرین پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

ترکی میں جمعہ پندرہ جولائی کی رات شروع کی جانے والی فوجی بغاوت کی کوشش، جو ہفتے کی صبح تک ناکام بنا دی گئی تھی، کا نتیجہ مجموعی طور پر حکام کے مطابق 265 ہلاکتوں اور قریب ڈیڑھ ہزار افراد کے زخمی ہو جانے کی صورت میں نکلا۔ اس کے بعد سے ترک مسلح افواج کے باغی اہلکاروں یا ان کے حامیوں کے طور پر اب تک قریب تین ہزار افسروں اور فوجیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Türkei Nach dem Militärcoup Erdogan-Anhänger protestieren in Ankara

فوجی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے میں ترک عوام کا کردار فیصلہ کن رہا

کل ہفتے کے روز انقرہ میں ایک اعلیٰ اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ جمعے کی رات جب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والے فوجی دھڑے نے اپنے ارادوں کو عملی شکل دینا شروع کی تھی، تو ’ہائی جیک‘ کیے گئے جنگی طیاروں میں دوبارہ ایندھن بھرنے کے لیے اسی ایئر بیس کو استعمال کیا گیا تھا۔

ترکی کا یہ فضائی اڈہ گزشتہ برس اس وقت سے امریکی فوج کی داعش کے خلاف جنگی کارروائیوں میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جب انقرہ حکومت نے امریکا کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں کے خلاف اپنے حملوں کے لیے اینجرلیک ایئر بیس کو استعمال کر سکتا ہے۔

پندرہ جولائی کی رات جب ترک فوج کے ایک دھڑے نے ملکی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش شروع کی تھی، تو آدانا میں امریکی قونصل خانے کے مطابق اس بغاوت کا علم ہوتے ہی حکومت نواز سکیورٹی فورسز نے اس ایئر بیس کو سربمہر کر دیا تھا۔ اس دوران کسی کو بھی اس فضائی اڈے میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اینجرلیک ایئر بیس ابھی تک ہر قسم کی سرگرمیوں کے لیے بند ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فضائی حدود ابھی تک بند ہیں، جن سے گزر کر ہی وہاں سے کوئی فضائی مشن پورا کیا جا سکتا ہے۔

DW.COM