1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باغیوں کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں، طرابلس کا اصرار

لیبیا کی حکومت نے باغیوں کی اس تردید کو مسترد کر دیا ہے کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔ طرابلس حکومت نے نیٹو کے فضائی حملوں کی کڑی مذمت کی ہے جبکہ معمر قذافی کا کہنا ہے کہ شکست نیٹو کا مقدر ہے۔

وزیر اعظم بغدادی المحمودی

وزیر اعظم بغدادی المحمودی

گزشتہ شب نیٹو کے فضائی حملوں کے باعث لیبیا کے دارالحکومت میں ہونے والے زور دار دھماکوں کے چند ہی گھنٹے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم بغدادی المحمودی نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین روز میں اپنے فضائی حملوں کے دوران ایک ہوٹل اور ایک یونیورسٹی سمیت متعدد ’شہری تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے’ وہ ‘جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب ہوا ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں حالات کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔

ریاستی ٹیلی وژن نے معمر قذافی کا ایک بیان یہ کہہ کر نشر کیا کہ وہ ٹیلی فون پر براہِ راست گفتگو کر رہے ہیں۔ درحقیقت قذافی آج کل منظر عام پر نہیں آ رہے۔ اسی دوران طرابلس کے گرین اسکوائر میں قذافی کے ہزاروں حامیوں نے ایک جلوس نکالا، جو کہ گزشتہ کئی ہفتوں میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے قذافی کا کہنا تھا کہ حکومت باہر سے مسلط کی ہوئی کوئی اصلاحات قبول نہیں کرے گی

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے قذافی کا کہنا تھا کہ حکومت باہر سے مسلط کی ہوئی کوئی اصلاحات قبول نہیں کرے گی

گرین اسکوائر میں جمع اپنے حامیوں سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے قذافی کا کہنا تھا کہ حکومت باہر سے مسلط کی ہوئی کوئی اصلاحات قبول نہیں کرے گی۔ قذافی نے کہا:’’ہم اس بات کا پختہ عزم رکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا، سوائے اُس کے، جو ہم لوگ آزادانہ طور پر اور اپنی مرضی سے کریں گے، ہم مزاحمت کر رہے ہیں۔ ہم لڑ رہے ہیں۔ شکست نیٹو کا مقدر ہے۔‘‘

جہاں حکومت کا اصرار ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ رابطے میں ہے، وہاں باغیوں نے حکومت کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات عمل میں آنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم اپنی نیوز کانفرنس میں وزیر اعظم بغدادی المحمودی نے کہا کہ مصر، فرانس، ناروے اور تیونس میں باغیوں کے ساتھ جو بھی بات چیت ہوئی ہے، وہ سب ریکارڈ کی گئی ہے اور باغی ان مذاکرات کے عمل میں آنے کو جھٹلا نہیں سکتے۔

محمود جبویل نے کہا:’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ NTC اور حکومت کے درمیان نہ کوئی رابطہ تھا اور نہ ہے۔‘‘

محمود جبویل نے کہا:’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ NTC اور حکومت کے درمیان نہ کوئی رابطہ تھا اور نہ ہے۔‘‘

ایک روز قبل روسی مندوب میخائل مارگیلوف نے باغیوں کے گڑھ بن غازی اور دارالحکومت طرابلس کے دوروں کے بعد کہا تھا کہ لیبیا کی حکومت نے برلن، پیرس اور اوسلو سمیت متعدد غیر ملکی دارالحکومتوں میں باغیوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ تاہم باغیوں کی قومی عبوری کونسل NTC نے روسی ایلچی کے اس بیان کی فوری تردید کی ہے۔ کونسل کے بین الاقوامی امور کے شعبے کے سربراہ محمود جبریل نے کہا:’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ NTC اور حکومت کے درمیان نہ کوئی رابطہ تھا اور نہ ہے۔‘‘

اُدھر بن غازی میں NTC کے ایک عہدیدار نے اس سلسلے میں زیاہ سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’قذافی کو جانا ہو گا۔ باغیوں کی جانب سے جو کوئی بھی قذافی کے بدستور برسرِ اقتدار رہنے کے سلسلے میں مذاکرات کرے گا، کونسل فوری طور پر اُس کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرے گی۔‘‘

فرانس نے کہا ہے کہ اُسے ایسی کسی بات چیت کا علم نہیں ہے۔ پیرس میں وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا:’’اگر کوئی براہِ راست رابطے ہوئے بھی ہیں تو ہم نے ان میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔‘‘

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس