1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باغیوں کی قذافی کے آبائی شہر کی جانب پیش قدمی

طرابلس پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ باغیوں نے اب قذافی کے آبائی شہر سرت کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرت میں ابھی تک قذافی نواز فورسز موجود ہیں۔

default

سرت کو قذافی کے حامیوں کا آخری ٹھکانہ تصور کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اب باغیوں کی قومی عبوری کونسل ملک کی جائز حکومت کے طور پر ابھر چکی ہے۔

بن غازی اور مصراتہ کے وسط میں واقع بن جواد کے بڑے قصبے پر باغی بظاہر قابض ہو چکے ہیں لیکن وہ اب بھی قصبے کو غیر محفوظ خیال کر رہے ہیں۔ اسی طرح النوفلیہ پر بھی باغی قابض ہیں۔ النوفلیہ میں باغی مزید لشکریوں کے منتظر ہیں اور وہ اپنی صفوں کو مناسب انداز میں ترتیب دے کر پوری قوت سے سرت کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اس فیصلہ کن کارروائی میں انہیں کسی طور پسپائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے کہا ہے کہ باغی فورسز قذافی کے آبائی شہر سرت کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ کونسل نے کہا ہے کہ ان کی فورسز اس مشرقی شہر کے تیس کلومیٹر کے علاقے میں موجود ہیں۔ کونسل کے ترجمان محمود شمام کا کہنا ہے کہ قذافی سرت میں ہیں یا نہیں، اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

سرت پر قبضے کے ساتھ ساتھ اس شہر کے مشرق میں واقع اسٹریٹیجک نوعیت کی وادی الاحمر پر بھی وہ حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ باغیوں کے ترجمان احمد بنی کے مطابق ان کے لشکریوں نے قذافی کے حامیوں کے ایک دوسرے بڑے گڑھ صحرائی شہر سبھا جانے والی سڑک پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سبھا پر باغی سرت پر کنٹرول کے بعد  حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ سبھا کا شہر لیبیا میں ایک فوجی اہمیت کا مرکز ہے۔ اسی شہر میں قذافی خفیہ طور پر جوہری پروگرام کو جاری رکھے ہوئے تھے۔

Libyen / Gaddafi / Rebellen

قذافی سرت میں ہیں یا نہیں، یہ پتہ نہیں، باغی

باغیوں کے عسکری ترجمان کرنل احمد عمر بنی کے مطابق قذافی کے دورِ حکومت میں گرفتار کیے گئے ہزاروں قیدی لاپتہ ہیں۔ انہوں نے دس ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے بارے میں بتایا، لیکن یہ بھی کہا کہ ساٹھ ہزار قیدیوں کا کوئی پتہ نہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ باغیوں کے طرابلس پہنچنے سے کچھ روز قبل قذافی کی فورسز نے درجن بھر قیدیوں کو قتل کیا اور اس بات کے ثبوت موجود ہیں۔

اُدھر لاکر بی بمبار عبدالباسط المغراہی طرابلس میں کومے کی حالت میں قریب المرگ ہے۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے یہ بات ایک امریکی ٹیلی وژن کے حوالے سے بتائی ہے، جس نے المغراہی کے گھر کی فوٹیج میں اسے بستر پر پڑے دکھایا ہے۔ اس کے بیٹے کا کہنا ہے کہ باغیوں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور اس کے والد کی دوائیں ساتھ لے گئے تھے۔ لیبیا کے شہری عبدالباسط المغراہی پر 1988ء میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے لاکر بی پر مسافر طیارہ گرانے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ اسکاٹش حکام نے المغراہی کو 2009ء میں اس خدشے کے بناء پر رہا کر دیا تھا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث تین ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔

 

رپورٹ:  عابد حسین  ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت:  ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس