1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باغیوں کی طرف سے قذافی کے حامیوں کو مذاکرات کی پیشکش

طرابلس میں قذافی کی رہائش گاہ باب العزیزیہ پر قبضے کے چوتھے روز باغیوں کی عبوری قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے قذافی کے حامیوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

مصطفیٰ عبدالجلیل

مصطفیٰ عبدالجلیل

بن غازی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ عبدالجلیل کا کہنا تھا کہ ان تمام علاقوں میں موجود لوگوں سے، جو ابھی تک آزاد نہیں کرائے جا سکے، مطالبہ کروں گا کہ وہ انقلاب کا حصہ بن جائیں۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی گلیوں اور سڑکوں پر باغیوں اور قذافی کی حامی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اس لڑائی میں بھارتی ہتھیار بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق طرابلس کے Corinthia ہوٹل میں غیر ملکی صحافی گھِر کر رہ گئے ہیں۔ اس ہوٹل کے باہر قذافی کے حامیوں اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

دوسری طرف باغیوں نے معمر قذافی کا پتہ بتانے یا  انہیں ہلاک کرنے والے کے لیے دو ملین امریکی ڈالرز انعام کا اعلان کیا ہے۔ باغیوں کے مطابق قذافی کے ساتھیوں میں سے ایسا کرنے والے شخص کو عام معافی دے دی جائے گی۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی گلیوں اور سڑکوں پر باغیوں اور قذافی کی حامی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی گلیوں اور سڑکوں پر باغیوں اور قذافی کی حامی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے

ادھر باغیوں کو تیل کے حوالے سے اہم راس لانوف کے قریبی شہر بن جواد سے پسپا ہونا پڑا ہے۔ بن جواد پر قذافی کی حامی فوج کی طرف سے شدید گولہ بازی کی جا رہی ہے۔ باغیوں کے مطابق وہ گزشتہ شب بن جواد میں داخل ہوگئے تھے تاہم گولہ باری سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطاﹰ باہر آ گئے ہیں۔ باغیوں کے مطابق ان کے پانچ فوجی، جنہیں علاج کی غرض سے لےجایا جا رہا تھا، قذافی کی حامی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے ہیں جبکہ دو فوجی لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔  باغیوں کا ہیڈ کوارٹر اس وقت راس لانوف میں ہی ہے اور یہ بن جواد سے محض 12 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

دوسری طرف فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے بدھ کے روز باغیوں کے ایک سرکردہ رہنما محمود جبریل سے ملاقات کے بعد عبوری قومی کونسل کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا: ’’ اقوام متحدہ کی قرار داد 1973 میں دیے گئےمینڈیٹ کے مطابق ہم قذافی کے فوجی اہداف پر اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھیں گے، جب تک ہمارے لیبیا کے دوستوں کو اس کی ضرورت ہے، کیونکہ ابھی تک وہاں بعض جگہوں پر مزاحمت موجود ہے۔‘‘

ہم قذافی کے فوجی اہداف پر اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھیں گے، سارکوزی

ہم قذافی کے فوجی اہداف پر اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھیں گے، سارکوزی

ادھر اٹلی نے لیبیا کے باغیوں کو 350 ملین یورو ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ باغیوں کی عبوری قومی کونسل کے دوسرے اہم ترین رہنما محمود جبریل کی اطالوی وزیراعظم سلویو برلسکونی سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے اعلان کیا کہ اطالوی بینکوں میں منجمد شدہ لیبیا کے اثاثوں میں سے 350 ملین یورو باغیوں کو اگلے ہفتے ادا کر دیے جائیں گے۔

لیبیا کے شہر الزاویہ کے نواح سے اغوا ہونے والے چار اطالوی صحافیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ مغویوں میں ایک خاتون صحافی بھی شامل تھی۔ کوریئر ڈیلا سیرا، جس کے لیے دو صحافی کام کرتے ہیں، نے اپنی ویب سائیٹ پر  بتایا کہ مغویوں کو دو نوجوانوں نے طرابلس کے اس اپارٹمنٹ سے رہا کرایا، جہاں وہ قید تھے۔ ان صحافیوں کو کل بدھ کو زاویہ سے طرابلس جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM