1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باغیوں نے حلب میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے، روس

روس نے الزام عائد کیا ہے کہ حلب میں باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ روس نے بین الاقوامی تنظیم برائے انسداد کیمیائی ہتھیار او پی سی ڈبلیو سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے مبصرین حلب بھیجے۔

روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حلب کے جنوب مغربی حصے میں باغیوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے حامل گولے فائر کیے۔ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں فائر کیے گئے ان گولوں میں سے کچھ نہیں پھٹے ہیں اور بین الاقوامی مبصرین ان گولوں کا فورا معائنہ کریں۔

جمعے کے روز روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ باغیوں کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے، جن میں کلورین گیس اور سفید فاسفورس شامل ہیں۔ روسی بیان کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے حلب کے جنوبی مغربی ضلعے 1070 کو نشانہ بنایا گیا۔

روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات اس علاقے کی مٹی کے نمونوں اور نہ پھٹنے والے گولوں کے معائنے کے تحت کی جا رہی ہے۔

روسی میجر جنرل ایگور کوناشینوف نے کہا کہ روس یہ تمام شواہد بین الاقوامی تنظم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے سپرد کر رہا ہے تاکہ وہ خود اپنے ماہرین متاثرہ علاقے میں بھیجے۔

روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں روسی فورسز او پی سی ڈبلیو کے ماہرین کی بھرپور معاونت کریں گی۔

واضح رہے کہ دی ہیگ میں قائم اس بین الاقوامی تنظیم نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، تاہم اب بھی وقفے وقفے سے حکومتی فورسز اور باغیوں کی جانب سے ان ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی رپورٹیں سامنے آتی رہتی ہیں۔