1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بار انتخابات: ’’آصف بمقابلہ افتخار‘‘

اٹھائیس اکتو بر کو سپربم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتحابات ، عدلیہ کی بحالی کے مسئلے پر ریفرینڈم کی حیثیت اختیار کرچکےہیں۔

default

سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت

ان انتخابات کے نتائج ہی حتمی طور پر یہ فیصلہ کریں گے کہ آنے والے دنوں میں وکلاء کی احتجاجی تحریک کیا صورت اختیار کرے گی۔قوائد کی رو سے اس سال سپریم کورٹ بار کا صدر معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کے آبائی صوبے بلوچستان سے لیا جائے گا۔ سپریم کورٹ بار کے صدارتی انتخاب میں جسٹس افتخار چودھری کے

Pakistan Präsident Aitzaz Ahsan in Islamabad, Wiederherstellung der Richter

سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر بیرسٹر اعتزار احسن

قریبی ساتھی علی احمد کرد بھی حصہ لے رہے ہیں۔ انہیں اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور حامد خان جیسے وکلاء تحریک کے رہنماؤں کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے وکلاء کی حمایت بھی حاصل ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی اور اس کی حامی جماعتوں کی طرف سے سینئر وکیل ایم ظفر میدان میں اترے ہیں۔ انہیں اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ اور وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

حالیہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کن ایشوز کو بنیاد بنا کر لڑے جا رہے ہیں ۔ اس حوالے سے بیرسٹر اعتزار احسن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ : یہ الیکشن بنیادی طور پر فیصلہ کریں گے کہ آیا اس ملک کو آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔جو لوگ اس ملک میں آزاد عدالتتیں اور آزاد منش جج صاحبان کو ان عدالتوں میں رونق افروز ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں وہ علی احمد کرد کے ساتھ ہیں اور جو نہیں دیکھنا چاہتے وہ ان کے مد مخالف کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ‘‘

اگرچہ ڈیڑھ ہزار ووٹ حاصل کرنے کے لیے دونوں طرف سے آزاد عدلیہ کا نعرہ لگایا جا رہا ہے تا ہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فریق عدلیہ کی آزادی کا مختلف مفہوم رکھتا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس عبالحمید ڈوگر کی اہلیت کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ایم ظفر کاموقف ہے : ’’ ڈوگر آئینی طور پر پاکستان کے چیف جسٹس ہیں۔ وہ لوگ جو اسے چیف جسٹس نہیں مانتے وہ بھی ان کے سامنے عدالت میں پیش ہوتے ہیں اور اسے مائی لورڈ ،مائی لورڈ کہتے تھکتے نہیں ہیں۔‘‘

تا ہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حامی علی احمد کرد اسی سوال کے جواب میں کہتے ہیں:’’ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اگر ہم نے چیف جسٹس سمجھ کر عبدالحمید ڈوگر سمجھ کر یہ کرنا ہوتا تو پھر پاکستان کے ایک لاکھ وکلاء آپ کو سڑکوں پر جوش و خروش سے احتجاج کرتے نظر نہیں آتے۔ ہم قطعی طور پر عبدالحمید کو چیف جسٹس نہیں مانتے۔ ‘‘ ان انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان اکتیس اکتوبر کو کیا جائے گا۔