1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بارہ مئی: ’روشن خیال اور اعتدال پسند آمر قتل عام کا سبب بنا‘

سانحہ بارہ مئی ہوئے نو برس گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ اس روز کراچی کی دو بڑی نسلی آبادیوں کے درمیان شدید فسادات ہوئے جن میں چند گھنٹوں کے دوران 50 سے ذیادہ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

ماضی کے برعکس اس مرتبہ سانحہ بارہ مئی کی نویں برسی کے موقع پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل کافی کم دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہریوں کے لیے بارہ مئی کی تاریخ ایک سیاہ دن تصور کی جاتی ہے۔

نو سال قبل کراچی کی دو بڑی نسلی آبادیوں کے درمیان شدید فسادات ہوئے تھے جن میں پچاس سے زیادہ شہری ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

اس خون ریزی کا آغاز اس وقت ہوا جب اس وقت کے معطل شدہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے کے لئے کراچی پہنچے، جہاں انہیں اس وقت کی حکومت نے ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔

صحافی عامر متین نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’’آج کے دن ایک آمر ملک کے سب سے بڑے شہر میں قتل عام کا سبب بنا۔ یاد رہے کہ اس آمر نے ہمیشہ روشن خیالی، اعتدال پسندی اور رواداری کا پرچار کیا۔‘‘

خالد منیر نے ٹویٹر صارف نے اپنے پیغام میں ایم کیو ایم چھوڑ کر ایک نئی سیاسی تنظیم بنانے والے کراچی کے سابق میئر مصطفٰی کمال کے بارے میں لکھا، ’’مصطفیٰ کمال کو حقائق سامنے لانا چاہییں۔ منصوبہ ساز کون تھا، عمل کس نے کیا اور ثبوت کس نے مٹائے؟‘‘

مائرہ علی زیدی نے بارہ مئی کو کراچی کے لیے سیاہ دن قرار دیتے ہوئے اس دن کے بارے میں کہا، ’’اس دن سڑکوں پر موت ناچ رہی تھی۔‘‘

انس ملک نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا، ’’مجھے آج بھی ایک مقامی اخبار کی شہ سرخی یاد ہے جس میں لکھا تھا کہ کراچی میں خون کی ہولی، پچاس افراد ہلاک۔‘‘

DW.COM