1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’بارڈر کنٹرول کی ضرورت نہیں رہی‘ آسٹریا

آسٹریائی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اٹلی کے ساتھ متصل برینر پاس نامی سرحدی گزر گاہ پر سخت چیکنگ کا سلسلہ شروع نہیں کرے گی۔ روم حکومت اس راستے سے آسٹریا میں داخل ہونے والے مہاجرین کے راستے روکنے کی خاطر نظام کو سخت بنا چکی ہے۔

Österreich Tirol Brenner Brennerpass

اس راستے کو شمالی یورپی ممالک کے لیے اطالوی ایکسپورٹ کی ایک اہم سپلائی لائن بھی قرار دیا جاتا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے آسٹریا کی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب برینر پاس پر لوگوں کی آمدورفت کی چیکنگ کے متنازعہ منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب اٹلی سے آسٹریا جانے والے مہاجرین کی تعداد میں واضح کمی نوٹ کی گئی ہے۔

قبل ازیں آسٹریا کی وزارت داخلہ نے خبردار کیا تھا کہ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں آسٹریا اور اٹلی کو ملانے والے برینر پاس پر فوج بھی تعینات کی جا سکتی ہے۔ آسڑیا کو خدشہ تھا کہ مہاجرین کے موجود بحران میں مہاجرین اور تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد اٹلی سے آسڑیا آ سکتی ہے۔

تاہم اطالوی حکام کی طرف سے نئے اقدامات کی وجہ سے صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ اس تناظر میں آسٹریائی وزیر داخلہ وولفگانگ سوبوتکا نے کہا، ’’گزشتہ ہفتوں کے دوران غیر قانونی مہاجرین کی آمد کا سلسلہ تقریبا ختم ہو چکا ہے۔‘‘ اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں آسٹریائی وزیر داخلہ نے جمعے کی شب مزید کہا کہ مشترکہ کوششوں کی وجہ سے صورتحال بہتر ہوئی ہے، اس لیے برینر پاس پر سکیورٹی چیکنگ کی ضرورت نہیں رہی۔

بیرنر پاس ایک تاریخی یورپی سرحدی راستہ ہے، جہاں سے یومیہ تقریبا ساڑھے پانچ ہزار ٹرک گزرتے ہیں۔ اس راستے کو شمالی یورپی ممالک کے لیے اطالوی ایکسپورٹ کی ایک اہم سپلائی لائن بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ گزرگارہ سرحدی چیکنگ کے نہ ہونے کے باوجود بھی اکثر ٹریفک جام کا شکار ہو جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر اس مقام پر چیکنگ شروع کر دی جائے گی تو ٹرک اور دیگر ٹریفک مزید تاخیر کا شکار ہو جائے گی۔

ویانا حکومت کو البتہ خدشہ ہے کہ بلقان ریاستوں کی طرف سے یونان کی سرحدوں کو بند کر دیے جانے کے نتیجے میں برینر پاس کا روٹ مہاجرین کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق رواں برس کے دوران ہی کم ازکم اٹھائیس ہزار پانچ سو مہاجرین لیبیا سے سمندری راستے کے ذریعے اٹلی پہنچ چکے ہیں، جن کی کوشش ہے کہ وہ شمالی اور وسطی یورپی ممالک کا رخ کر سکیں۔ یہ مہاجرین عمومی طور پر آسٹریا سے ہو کر دیگر یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Österreich Europabrücke Brennerpass

بیرنر پاس ایک تاریخی یورپی سرحدی راستہ ہے، جہاں سے یومیہ تقریبا ساڑھے پانچ ہزار ٹرک گزرتے ہیں

قبل ازیں آسٹریا کے حکام نے کہا تھا کہ وہ اس اہم تجارتی گزرگاہ پر فوجی بھی تعینات کر سکتے ہیں۔ ویانا کے ان منصوبوں پر یورپی یونین کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی۔ یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے بھی اس مجوزہ منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک ’سیاسی تباہی‘ سے تعبیر کیا تھا۔

گزشتہ برس آسٹریا پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد نوے ہزار کے قریب تھی۔ مہاجرین کے اس بحران کی وجہ سے آسٹریا میں مہاجر مخالف ’فریڈم پارٹی‘ کی عوامی حمایت میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ وہاں سن 2018 کے انتخابات میں اب اس پارٹی کو ایک اہم سیاسی گروہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔