1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بارودی سرنگیں: پاکستان اور بھارت کے کردار پر تشویش

باردوی سرنگوں سے متعلق حادثات گزشتہ دس برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے جاری کی گئی ایک سالانہ رپورٹ میں پاکستان، بھارت، اور میانمار میں اس ہتھیار کی پیداور پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

default

’لینڈ مائن مونیٹر رپورٹ 2010ء’ بارودی سرنگوں پر پابندی کے لئے نوبل انعام یافتہ مہم ICBL نے جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2009ء میں اس ہتھیار سے متعلق حادثات کے باعث 3956 افراد ہلاک یا معذور ہوئے، جو 1999ء سے اب تک کی کم ترین سطح ہے جبکہ 2008ء کے مقابلے میں اس تعداد میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ساتھ ہی خبردار بھی کیا گیا ہے کہ یہ اعدادوشمار حتمی نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ایسے متعدد حادثات کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہو پاتیں۔ ICBL کےمطابق میانماراب وہ واحد ملک ہے جوابھی بھی نئی بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس بارودی سرنگوں کے استعمال پر بین الاقوامی پابندی کے لئے خاطرخواہ پیش رفت ہوئی تھی۔ مصنفین نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بدھ کو ایک نیوزکانفرنس میں بتایا کہ پاکستان، بھارت اور میانمار میں اس ہتھیار کی پیداوار تاحال جاری ہے جبکہ شمالی کوریا کی جانب سے اس سے متعلق معلومات دستیاب نہیں، جو باعث تشویش ہے۔

رپورٹ کے چیف ایڈیٹر مارک ہزنے کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق حادثات میں کمی سے واضح ہوتا ہے کہ بارودی سرنگوں پر پابندی کے لئے 1997ء کا معاہدہ مؤثر ہے۔ اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک سٹیو گُوز نے کہا، ’ہم نے اس ہتھیار کو اس قدر بدنام کر دیا کہ اس کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں۔‘

اس سالانہ اشاعت کے مطابق 156ممالک بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ تاہم امریکہ، چین، روس اور دیگر 36 ممالک اس معاہدے کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے قواعد پر عمل پیرا ہیں۔

Landminen in Südkorea

چین بارودی سرنگوں کی صفائی کے لئے مالی معاونت فراہم کرتا ہے

یہ رپورٹ 1999ء سے سالانہ بنیادوں پر جاری کی جاتی ہے اور اس وقت سے روس کو ہر رپورٹ میں اس ہتھیار کے استعمال کنندہ ملک کے طور پر بتایا گیا ہے۔ تاہم حالیہ رپورٹ میں روس کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔ ماسکو حکام بارودی سرنگوں کا استعمال بند کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ چین اس معاہدے کے تحت بارودی سرنگوں کی صفائی کے لئے مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

امریکی فوج کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس ہتھیار کے استعمال کا آپشن کھلا رکھنا چاہتی ہے، تاہم واشنگٹن حکومت اس حوالے سے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے رہی ہے اور آئندہ ہفتے جنیوا میں معاہدے کے جائزے کے لئے منعقد کی جانی والی کانفرنس میں شریک ہوگی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس