1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بارسلونا حملے کی ذمہ داری ’ داعش‘ نے قبول کر لی

ہسپانوی پولیس نے بارسلونا کے قریب ایک دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانے کا دعوٰی کرتے ہوئے جمعے کی صبح پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روز کے بارسلونا حملے کی ذمہ داری ’داعش نے‘ نے قبول کر لی ہے۔

اسلامک اسٹیٹ یا ‘داعش‘  کے خبر رساں ادارے عماق کے مطابق یہ دہشت گردانہ کارروائی اس تنظیم کے ’’سپاہیوں‘‘ نے کی ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بارسلونا حملہ مختلف شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اُن تمام ممالک کو نشانہ بنانے کے مطالبے کے جواب میں کیا گیا ہے، جو شام اور عراق میں آئی ایس مخالف اتحاد میں شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی آئی ایس اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں یورپ میں اپنے حامیوں کو حملوں کی ترغیب دیتی رہی ہیں۔

اسپین کے طبی حکام نے تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ سو سے زائد زخمیوں میں سے پندرہ کی حالت نازک ہے۔ گزشتہ روز ایک دہشت گرد نے بارسلونا کے معروف علاقے لاس رمبلاس میں اپنی گاڑی شہریوں پر چڑھا دی تھی۔

فرانس یورپ میں دہشت گردی کا مرکز کیوں؟

یورپ میں اسلامک اسٹیٹ کا منڈلاتا  ہوا خطرہ

اسپین: دو مشتبہ روسی دہشت گردوں پر بھی فرد جرم عائد

بارسلونا پولیس محکمے کے سربراہ  خوسیپ تراپیور نے بتایا کہ اس حملے کے تناظر مں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس میں ایک مراکشی شہری ہے جبکہ دوسر ے کا تعلق اسپین کے ایک خود مختار شہر ملیلہ سے ہے۔ تاہم حملے میں استعمال ہونے والی وین کا ڈرائیور ابھی تک مفرور ہے۔

اس واقعے کے بعد ملکی وزیراعظم ماریانو راخوئے اپنی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے بارسلونا پہنچ چکے ہیں، جہاں انہوں نے اعلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ راخوئے کے بقول، ’’دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور اس کا جواب بھی عالمی سطح پر دیا جانا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب آج جمعے کی صبح پولیس نے بارسلونا سے جنوب میں واقع ایک تفریحی مقام ’کامبرلز‘ پر پانچ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ پانچوں آؤڈی کمپنی کی اس A3 کار پر سوار تھے، جس نے آج صبح سویرے  ساحل سمندر پر بنے فٹ پاتھ پر چلتے والے سات افراد کو ٹکر مار کر زخمی کیا تھا۔ اس بیان میں مزید بتایا گیا کہ مشتبہ افراد میں سے کچھ خود کش جیکٹیں پہنے ہوئے تھے، جنہیں بعد میں ناکارہ بنا دیا گیا۔

 

DW.COM