بارسلونا حملہ آور ابھی تک مفرور ہے، ہسپانوی پولیس | حالات حاضرہ | DW | 19.08.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بارسلونا حملہ آور ابھی تک مفرور ہے، ہسپانوی پولیس

ہسپانوی پولیس بارسلونا میں دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث حملہ آور کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف حکام نے بتایا ہے کہ بارسلونا اور کامبرلز میں حملوں کے لیے استعمال ہونے والے دہشت گردی کے مرکز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ہسپانوی پولیس نے بتایا ہے کہ بارسلونا میں وین کے ذریعے حملہ کرنے والا شخص ابھی تک زندہ ہے اور اس مفرور حملہ آور کی تلاش کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزرات داخلہ کے مطابق بارسلونا اور کامبرلز میں کیے گئے حملوں میں ملوث افراد کو ڈھونڈنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

اسپین: دہشت گردانہ حملے کے متاثرین میں درجنوں ممالک کے شہری

میڈرڈ سے مانچسٹر تا بارسلونا: دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ

بارسلونا حملے کی ذمہ داری ’ داعش‘ نے قبول کر لی

ویڈیو دیکھیے 01:12

جب اسپین میں حملے ہوئے

حکام نے نئے مشتبہ شخص کا نام یونس ابو یعقوب بتایا ہے، جو مراکش میں پیدا ہوا تھا۔

قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ بارسلونا حملے میں ملوث سترہ سالہ موسیٰ الکبیر کامبرلز میں پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اس کارروائی میں پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔

ہفتے کے دن ہسپانوی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مزید حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔

بائیس سالہ ابو یعقوب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بارسلونا کے شمال میں واقع ریپول نامی شہر میں رہتا تھا۔

پولیس نے اس شہر میں چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، جن سے تفتیشی عمل جاری ہے۔

فرانسیسی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ غالبا یونس ابو یعقوب فرار ہو کر فرانس میں داخل ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں اسپین اور فرانس نے سرحدی گزرگاہوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے جبکہ متعلقہ حکام نے شہریوں کو چوکنا رہنے کی تاکید بھی کی ہے۔

آج بروز ہفتہ ہسپانوی وزیر داخلہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ بارسلونا اور کامبرلز میں ہوئے حملوں میں استعمال ہونے والے دہشت گردی کے ایک مرکز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الکنر نامی شہر میں واقع اس مرکز سے مزید حملوں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی تھی جبکہ اس سیل سے دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے۔

جمعرات کے دن بارسلونا میں ایک حملہ آور نے شہر کے مرکزی علاقے میں اپنی وین راہ گیروں پر چڑھا دی تھی، جس کے باعث تیرہ افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کارروائی میں زخمی یا ہلاک ہونے والوں میں پاکستان سمیت مجموعی طور پر چونتیس ممالک کے باشندے شامل ہیں۔ عالمی طاقتوں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic