1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما کی نوری المالکی سے ملاقات

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے پیر کو واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان کے دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق جنگ ختم ہو چکی ہے اور فوجی اب گھر لوٹ رہے ہیں۔

default

اوباما اور المالکی

امریکی صدر باراک اوباما نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات پیر کو وائٹ ہاؤس میں کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے، جب عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے آخری دستے رواں ماہ وطن لوٹ رہے ہیں۔ جنگ کے ایام میں وہاں تعینات ان فوجیوں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ ستّر ہزار تھی۔

اول آفس میں ملاقات کے بعد اوباما اور المالکی نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ بعد میں وہ آرلنگٹن نیشنل سیمٹری (قبرستان) بھی گئے، جہاں عراق جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے تقریباﹰ ساڑھے چار ہزار امریکی فوجیوں میں سے بیشتر کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ اس جنگ میں ہزاروں عراقی بھی ہلاک ہوئے۔

المالکی نے نائب امریکی صدر جو بائیڈن اور امریکی سینیٹروں سے بھی ملاقات کی، اس دوران عراق میں سلامتی، توانائی، تعلیم اور انصاف کے امور پر بات کی گئی۔

وائٹ ہاؤس نے ایک اعلامیے میں کہا کہ امریکی اور عراقی رہنما عراق سے امریکی افواج کے انخلاء پر مذاکرات کریں گے۔

امریکی فوجیوں کی جانب سے تربیتی مشن کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصےسے جاری مذاکرت عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو مقدمات سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر ناکام ہو چکے ہیں۔ پھر بھی فریقین کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مستقبل میں فوجی تبادلوں کے موضوع پر بات چیت کر رہے ہیں۔

دوہزار چھ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوری المالکی کا یہ تیسرا دورہء امریکہ ہے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ ہوشیار زیباری، وزیر ثقافت اور قائم مقام وزیر دفاع سعدون الدلیمی، وزیر ٹرانسپورٹ ہادی العامری، وزیر تجارت خیراللہ حسن بابکر اور قومی سلامتی کے مشیر فلاح فیاض بھی ان کے وفد میں شامل ہیں۔

امریکی فوج عراق میں اپنے پیچھے نو لاکھ مقامی فوجی چھوڑ رہی ہے، جسے امریکی اور عراقی حکام نے اندرون ملک سلامتی کے امور سنبھالنے کے قابل قرار دیا ہے۔ تاہم اس فورس کو ملکی سرحدوں، فضائی اور سمندری حدود کے تحفظ کی اہل خیال نہیں کیا جاتا۔

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس