1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما کی ملکی نیشنل سیکیورٹی ٹیم سے ہنگامی ملاقات

جس میں نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر کے حالیہ ناکام بم حملے اور اس میں مبینہ طور پر ملوث ایک پاکستانی نژاد امریکی کی گرفتاری کے بعد پائے جانے والی تشویش پر بات چیت ہوگی۔

default

وائٹ ہاؤس میں اس میٹینگ کا مرکزی موضوع پاکستان ہوگا۔

وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں امریکہ کے ڈیفینس سیکریٹری رابرٹ گیٹس، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، امریکی خفیہ ادارے اور انسداد دہشت گردی کے چوٹی کے اہلکاروں سمیت افغانستان متعینہ عالمی امن فورس آئی سیف اور امریکی فوجی دستے کے کمانڈرجنرل میک کرسٹل بھی شامل ہوں گے۔

Senatorin Hillary Clinton, 20.01.2007

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنشن بھی شریک ہوں گی۔

امریکہ کے سلامتی کے اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کی یہ ملاقات امریکی صدر اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی کے مابین ہونے والی ایک طے شدہ میٹنگ سے پہلے ہو رہی ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ حامد کرزئی کچھ عرصے سے امریکہ اور افغانستان کے تعلقات میں پڑنے والی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ طے شدہ پلان کے مطابق حامد کرزئی 12 مئی کو باراک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ دونوں صدور کی یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہےکیونکہ افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں امریکی فوج کی قیادت میں نیٹو فورسز عسکریت پسندوں کے خلاف جلد ہی ایک بڑا آپریشن کرنے والی ہیں۔ قندھار ہی افغانستان کا سب سے زیادہ شورش زدہ علاقہ مانا جاتا ہے اور گزشتہ 9 سالوں سے افغانستان میں جاری جنگ میں اس جنوبی صوبے ہی کو مرکزی میدان جنگ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

Obama überraschend in Afghanistan

دو طرفہ تعلقات میں یہتری کی کوششیں

امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کی توجہ اس وقت پاکستان پر مرکوز ہے، جس کی وجہ گزشتہ ہفتے کے روز نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر میں ایک کار بم حملے کی ناکام کوشش میں مبینہ طورپر ملوث پاکستانی نژاد امریکی باشندے کی گرفتاری اور تفتیشی کارروائیوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی اطلاعات ہیں۔ 30 سالہ فیصل شہزاد نے ٹائمز اسکوائر میں ایک کار میں بم نصب کر کے دھماکے کی کوشش کا اعتراف کر لیا ہے۔

Times Square Bombenalarm

امریکہ کے سلامتی کے ادارے ٹائم اسکوائر کے ناکام حملوں کے بعد گہری تشویش کا شکار۔

امریکی حکام شہزاد کی اُس دہشت گردانہ کارروائی کے پیچھے کسی غیر ملکی دہشت گرد گروپ کے ملوث ہونے کے بارے میں چھان بین کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے امریکی حکام کو تفتیشی کارروائیوں میں بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے پاکستان میں کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔ تاہم پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ اب تک شہزاد کے عسکریت پسندوں کا گڑھ مانے جانے والے علاقے وزیرستان کے کسی دہشت گرد گروپ کے ساتھ روابط کا پتہ نہیں لگا پائی ہے۔ یاد رہے کہ فیصل شہزاد پاکستان کی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ اعلیٰ آفیسر کا بیٹا ہے۔ دریں اثناء افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ’ جب تک کوئی واضح لنک نہیں ملتا، تب تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا‘۔

افغان سرحد سے ملحقہ وزیرستان کا علاقہ تحریک طالبان پاکستان کا مرکز ہے اور اس تنظیم نے یکم مئی کو ٹائمز اسکوائر میں ہونے والے ناکام بم حملے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

رپورٹ کشور مصطفیٰ

ادارت امجد علی