1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما کی فوری حکومتی ترجیحات

باراک اوباما نے جمعہ کے روزشکاگو میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئےکہا کہ اگلے برس 20 جنوری کےروزجب وہ اپنے عہدےکاحلف اٹھائیں گے،تو بطور صدر ان کی فوری ترجیح امریکہ کی معیشی حالت بہتر بنانا ہوگی۔

default

باراک اوباما نومنتخب نائب صدر جو بائیڈن اورریاست میشی گن کی خاتون گورنر جینیفر گرینہولم کے ساتھ شکاگو میں اپنے اقتصادی مشیروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے

نومنتخب امریکی صدرباراک اوباما نے اپنے سینئراقتصادی مشیروں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعداولین پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ مالیاتی بحران کے منفی نتائج کے خلاف مئوثر اقدامات کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اورانہیں یہ احساس ہے کہ ان مسائل کو نہ توفوری طور پر حل کیا جاسکے گا اور نہ ہی یہ کام بہت آسان ہوگا، بلکہ یہ کام ایک ایسا چیلنج ہے جس کے لئے پوری توجہ اور مسلسل محنت کی ضرورت ہوگی۔

سیاہ فام نومنتخب امریکی صدر نے کہا: "صدر بننے کے فوری بعد میں اس معیشی بحران کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ تمام ضروری اقدامات کروں گا جن کے ذریعے قرضوں سے متعلق اس بحران پر قابو پایاجاسکے، محنت کش خاندانوں کی مدد کی جاسکےاور معیشی ترقی اور خوشحالی بحال ہو سکے۔"

امریکی معیشت کی اس بحران سے کامیابی سے نکل سکنے کی اہلیت کے بارے میں باراک اوباما نے کہا: "یہ کام نہ تو بہت جلد ممکن ہو سکے گا اور نہ ہی یہ بہت آسان ہوگاکہ امریکی معیشت خود کو ان مشکل حالات سے نکال سکے جن کا اسے سامنا ہے۔ لیکن امریکہ ایک ایسی مضبوط معیشت ہے کہ مجھے ابھی سے علم ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے، صرف اس صورت میں کہ ہم پارٹی ہمدردیوں اور سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئےایک قوم کے طور پر مل جل کر کوشش کریں۔ یہ ہے وہ کام جو میں کرنا چاہتا ہوں۔"

Barack Obama mit Großeltern

باراک اوباما کی ان کے نانا اور نانی کے ساتھ نیویارک میں لی گئی ایک تصویر

اپنے انتخاب کے بعد پہلی مرتبہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے ایرانی ایٹمی پروگرام کے باعث واشنگٹن کے تہران کے ساتھ تنازعے کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ناقابل قبول ہوگی اور ایران کو دہشت گرد تنظیموں کی حمائت بھی بند کرنا ہوگی۔

اسی پس منظر میں ایرانی صدر کے ایک خط کے بارے میں باراک اوباما کا کہنا تھا: "میں صدر احمدی نژادکے خط کا اچھی طرح جائزہ لوں گا اور پھر ہم اس کے مطابق ہی اپنا رد عمل ظاہر کریں گے۔ ایران جیسے ملک کے بارے میں ہمارا مئوقف کیا ہوگا، ہمیں اس پر اچھی طرح غور کرنا ہوگا۔"

باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح معیشی ترقی کے لئے ایک نئے سرکاری پروگرام کی منظوری ہو گی۔ اس کے علاوہ وہ بےروزگار افراد کے لئے مالی امداد میں اضافہ کریں گے اور ٹیکسوں کی شرح میں اس طرح کمی کی جائے گی کہ متوسط طبقہ اس سے فائدہ اٹھا سکے۔