1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما کی تفصیلی پیدائشی سند کا اجراء

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی جائے پیدائش کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو ’حماقت‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ وہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے جبکہ تفصیلی پیدائشی سند بھی جاری کر دی ہے۔

default

باراک اوباما نے وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم سے امریکیوں کے نام اپنے خطاب میں کہا، ’میں امریکی عوام کی وسیع تر اکثریت اور ذرائع ابلاغ سے مخاطب ہوں۔ ہمارے پاس ایسی حماقتوں کے لیے وقت نہیں۔ ہمارے سامنے کہیں بہتر مقاصد ہیں۔ میرے پاس کرنے کے لیے کہیں اہم کام ہیں‘۔

باراک اوباما کا یہ بیان براہ راست نشر کیا گیا۔ خیال رہے کہ امریکی قانون کے مطابق صدر اور نائب صدر کو نہ صرف امریکہ کے شہری ہونا چاہیے بلکہ ان کی جائے پیدائش بھی امریکہ ہی کی ہونی چاہیے جبکہ بعض حلقوں نے اسی نکتے کو بنیاد بناتے ہوئے اوباما کی جائے پیدائش پر سوال اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوباما دراصل اپنے والد کے آبائی وطن کینیا میں پیدا ہوئے تھے۔ حال ہی میں ریپبلیکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ان افواہوں کو پھر سے ہوا دی۔

دوسری جانب سی بی ایس اور نیویارک ٹائمز کے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق ایک چوتھائی امریکیوں کا بھی یہی خیال ہے کہ اوباما امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔

تاہم اوباما نے کہا کہ انہیں اقتصادی بحالی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے اور اگر ایسی باتوں کی وجہ سے توجہ بٹتی رہی تو اہداف حاصل کرنے مشکل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا، ’حقائق کو حقائق تسلیم نہ کرنے سے ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے‘۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے باراک اوباما کے برتھ سرٹیفیکیٹ کی تفصیلی

Barack Obama als Kind

اوباما کے بچپن کی تصویر، والدہ اور سوتیلے والد کے ساتھ

سرکاری نقل جاری کی ہے، جو امریکی ریاست ہوائی سے حاصل کی گئی ہے۔ اس دستاویز کے مطابق ’باراک حسین اوباما دوم‘ چار اگست 1961ء کو شام سات بج کر چوبیس منٹ پر ہونولولو کے کاپیولانی میٹرنٹی ہسپتال میں پیدا ہوئے۔ اس دستاویز میں وشیٹیا سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سالہ اسٹینلے این ڈنہم کو ان کی والدہ اور کینیا کے پچیس سالہ باراک حسین اوباما کو ان کا والد بتایا گیا ہے۔

اس دستاویز کے اجراء کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے، ’مجھے ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہوئے پتہ چلا کہ ہمارے صدر نے پیدائشی سند جاری کی ہے۔ میں اسے دیکھنا چاہوں گا، لیکن مجھے امید ہے کہ یہ بات سچ ہے‘۔

قبل ازیں 2008ء میں صدارتی مہم کے دوران اسی پیدائشی سند کا مختصر ورژن جاری کیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس