1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما کا دورہ ایشیا، آج جاپان پہنچیں گے

امریکی صدر باراک اوباما کا چار ایشیائی ممالک کے دورے پر جمعہ کو جاپان پہنچ رہے ہیں، جس کے بعد وہ سنگاپور، چین اور آخری میں جنوبی کوریا جائیں گے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

قبل ازیں وہ بدھ کو اس دورے کا آغاز کرنے والے تھے، تاہم فورٹ ہڈ کے سانحے کے ہلاک شدگان کے لئے بدھ کے دعائیہ اجتماع میں شرکت کی وجہ سے اسے ازسرنو ترتیب دیا گیا۔

امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے دورے کے نئے شیڈیول کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ایشیائی ملکوں کے دورے پر روانگی سے قبل امریکی صدر نے دارالحکومت واشنگٹن کے نواح میں واقع پہلی عالمی جنگ کے مرحومین کے آرلنگٹن قبرستان میں پھول بھی رکھے۔

امریکی صدر کا دس روزہ دورہ اب ایک دِن کی کمی کے بعد نو دنوں پر محیط ہو گا۔ گیارہ نومبر سے شروع ہونے والے دورے کے دوران اُن کی سنگا پور میں ایشیا پیسفک تعاون فورم کے اجلاس میں شرکت کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اُس کی ایک وجہ تجزیہ کاروں کے نزدیک میانمار کے ایک فورم میں شرکت ہے۔

ایشیا پیسفک تعاون فورم کے سنگاپور میں منعقدہ اجلاس میں میانمار کے وزیر اعظم لیفٹیننٹ جنرل Thein Sein بھی موجود ہوں گے۔ اوباما اس موقع پر جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے دس رکن ملکوں کے لیڈروں کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ میں بھی شریک ہوں گے۔ اِس موقع پر میانمار کے وزیر اعظم سے ان کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

میانمار کے وزیراعظم کی موجودگی والے اجلاس میں اوباما کی شرکت کو اُن کی پالیسی میں تبدیلی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اِس فورم کے رکن ملکوں میں جاپان، چین، روس ،آسٹریلیا اور انڈونیشیا نمایاں ہیں۔ سنگاپور میں قیام کے دوران اوباما روسی اور انڈونیشی صدور سے بھی ملیں گے۔

Der japanische Premierminister Yukio Hatoyama

جاپانی وزیر اعظم یوکیو ہاتویاما

امریکی صدر باراک اوباما کے موجودہ دورے کی پہلی منزل جاپان ہے اور وہ کل جمعہ کو جاپانی وزیر اعظم سے ٹوکیو میں ملاقات کریں گے۔ جاپان اِس خطے میں امریکہ کا سیکیورٹی حلیف ہے۔

نئے جاپانی وزیر اعظم یوکیو ہاتویاما جاپان کے اندر امریکی فوجی اڈوں پر جاپانی عمل داری کی بات کرتے ہیں، جس پر امریکی فوجی ادارے کو تشویش ہے۔ امریکی صدر اور جاپانی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی کانفرنس اور مالیاتی بحران کے بعد اقتصادی صورت حال کو بات چیت کے دوران فوقیت حاصل رہے گی۔

جاپان اور سنگاپور کے بعد امریکی صدر چین پہنچیں گے۔ اپنے پہلے دورہٴ چین کے دوران اعلیٰ چینی قیادت کے ساتھ امریکی صدر افغانستان، ایران، شمالی کوریا، عالمی مالیاتی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ چین امریکہ تجارت کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔ اِس دورے کے دوران وہ چین کے اندرانسانی حقوق اور مذہبی آزادی بشمول تبت جیسے حساس معاملات پر امریکی مؤقف بیان کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

چین کے دورے کے بعد اُن کی آخری منزل جنوبی کوریا ہے۔ دونوں کوریائی ملکوں کے درمیان ہونے والی سمندری جھڑپ کے تناظر میں یہ دورہ مزید اہمیت کا حامل ہو گیا ہے اور یقینی طور پر امریکی صدر اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب کے ساتھ امریکی سیکیورٹی کمٹمنٹ کے حوالے سے بات کریں گے۔ امریکی صدر جنوبی کوریا میں موجود امریکی فوجی دستوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان آزاد تجارت کے سمجھوتے کی ابھی توثیق امریکی کانگریس سے ہونا باقی ہے۔آزاد تجارت کے تناظر میں اِس سمجھوتے کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM