1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما مسجد میں

امریکی صدر بارک اوباما نے بدھ تین فروری کو ریاست میری لینڈ کی ایک مسجد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلام پر حملے تمام مذاہب پر حملوں کے مساوی ہیں۔

default

باراک اوباما مسجد کے اندر شرکاء کو ہاتھ ہلاتے ہوئے

امریکی صدر نے میری لینڈ کی جس مسجد کا دورہ کیا، اُس میں امریکا اور ریاست میری لینڈ کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ یہ مسجد بالٹی مور شہر کے نواح میں واقع ہے۔ مسجد کی دیواروں پر کھڑکیوں کی تین قطاریں ہیں جن میں مجموعی طور پر ننانوے شیشے لگے ہوئے ہیں۔ ان شیشوں پر اللہ تعالیٰ کے ننانوے توصیفی نام لکھے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر کی آمد کے موقع پر مسجد کے اندر تمام مرد سروں پر ٹوپیاں رکھے ہوئے تھے۔ اِس خصوصی تقریب میں شریک خواتین بھی باقاعدہ سروں پر اسکارف پہنے ہوئی تھیں۔

اوباما کی آمد پر تقریب کا آغاز قران کی اُن آیات کی تلاوت سے کیا گیا اور جن میں رواداری اور آپس میں مل جل کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اوباما مسجد میں مسلمانوں کے عقیدے کے انداز میں اپنے جوتے اتار کر داخل ہوئے۔ مسجد میں ایسے مسلمان بھی موجود تھے جو امریکی افواج میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور وہ خصوصی طور پر قطار بنائے ہوئے کھڑے تھے۔

خواتین میں مسلمان امریکی خاتون ایتھلیٹ ابتہاج محمد بھی موجود تھیں۔ ابتہاج محمد رواں برس کے ریو اولمپکس میں تلوار بازی کے ڈسپلن میں حجاب پہن کر شریک ہوں گی۔ وہ حجاب پہن کر اولمپکس میں شرکت کرنے والی پہلی امریکی ایتھلیٹ ہوں گی۔

Obama besucht Moschee in Baltimore

اوباما کی بالٹی مور شہر کی مسجد میں موجودگی کے دوران شرکاء

مسجد کے باہر اوباما نے کہا کہ کسی عقیدے پر حملے سے مراد سب عقیدوں پر حملہ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب کسی ایک مذہبی گروپ پر حملہ کیا جائے تو دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو مشترکہ طور پر اُس حملے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ کسی چرچ ، یہودیوں کی عبادت گاہ سیناگوگ یا کسی ٹیمپل پر ہونے والے حملے میں جو سوچ پیدا ہو تی ہے ویسی ہی سوچ اور پریشانی کسی مسجد پر حملے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

اِس موقع پر مسیحی عقیدے کے حامل امریکی صدر نے اپنی تقریر میں اسلام کے بنیادی اصولوں کو اپنی تقریر کا موضوع بناتے ہوئے امریکا میں مسلمانوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے بابائے قوم تھامس جیفرسن نے امریکا میں مذہبی آزادی کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر مسلمانوں کا حوالہ دیا تھا۔ اِس مناسبت سے تھامس جیفرسن کے مخالفین نے بھی انہیں مسلمان قرار دیا بالکل ایسے ہی جیسے اُن کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے ’وہ اندر سے مسلمان ہیں‘۔

مسجد سے ملحقہ ہال میں موجود بچے امریکی صدر کی تقریر ایک بڑی اسکرین پر دیکھ رہے تھے اور اُن کو مخاطب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ وہ ایک دن امریکا کے صدر بن سکتے ہیں۔ امریکا نے نوجوان مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیک وقت مسلمان اور امریکی ہیں۔