1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باراک اوباما ترکی میں

صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا کسی بھی مسلم ملک کا یہ پہلا دورہ ہے۔ منگل کے روز وہ مذہبی شخصیات سے ملاقات کریں گے اور ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک گول میزکانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔

default

امریکی صدر اوباما میں ترک صدر عبداللہ گل کے ہمراہ نقرہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران

گذشتہ چار دنوں کے دوران یورپی سرزمین پر امریکی صدر باراک اوبا ما نے چار سربراہی اجلاسوں میں شرکت کی۔ یورپی سربراہاں سے بات چیت میں عالمی اقتصادی بحران، پاکستان اورافغانستان کے حوالے سے امریکہ اور مغربی دفاعی اتحاد کی نئی پالیسی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ باراک اوباما اس وقت ترکی میں ہیں۔ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا کسی بھی مسلم ملک کا یہ پہلا دورہ ہے۔

ترک صدرعبداللہ گل سے ملاقات کے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ وہ ترکی کےساتھ مظبوط تعلقات چاہتے ہیں۔ دارلحکومت اتقرہ میں ہونے والی اس پریس کانفرنس مں اوباما نے مزید کہا کہ عراق جنگ کی مخالفت کے بعد امریکہ ترک تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی تھی تا ہم اس میں اب نمایاں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔ کردستان ورکزر پارٹی PKK کے متعلق ایک سوال کے جواب میں اوباما نے کہا کہ PKK دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے اور دہشت گردی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

Obama besucht Türkei

اوباما نے ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی

اوباما کے مطابق نیٹو کے اتحادی ملک کےطورپر دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنے کے لئے ترکی کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا ترکی اور امریکہ مل کہ ایک مثالی پارٹرنرشپ قائم کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پڑوسی ملک آرمینیا کے ساتھ بات چیت اور دوطرفہ تعلقات بہترکرنے کی کوششوں کو سراہا۔ ترکی اورآرمینیا کے تعلقات 1915 سے کشیدہ ہیں کہ جب سلطنت عثمانیہ کے دور میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کا واقعہ رونما ہوا تھا۔ اس واقعے کے حوالے سے دونوں پڑوسی ممالک کے موقف جدا جدا ہیں۔ ترک صدرعبداللہ گل نے اس موقع پر کہا کہ جب ان کی حکومت برسراقتدار آئی،تب آرمینیا کے ساتھ تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے اور اب تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔

باراک اوباما کی جانب سے ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ جس کی جرمن خارجہ امور کے ایک اسٹیٹ سیکریٹری Gernot Erler نے بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا سب کو علم ہے کہ ترکی اور یورپ کی قربت اور یورپی یونین میں ترکی کے انضمام میں امریکہ دلچسپی رکھتا ہے۔

’’امریکہ کا خیال ہے کہ ترکی کو ساتھ ملا کر تہذیبوں اور تقافتوں کے تصادم کو ختم کیا جا سکے‘‘۔

باراک اوباما کا یہ دورہ ترکی دو روز پر مشتمل ہے۔ منگل کے روز وہ مذہبی شخصیات سے ملاقات کریں گے اور ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک گول میزکانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔